تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۵۳ سورة ال عمران والا بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ عذر کہ ہم حضرت عیسی کو <mark>خدا</mark> تو نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ نے بعض اپنی <mark>خدا</mark>ئی کی صفتیں ان کو عطا کر دی تھیں نہایت مکروہ اور باطل عذر ہے۔کیونکہ اگر <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے اپنی <mark>خدا</mark>ئی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنی ساری صفتیں <mark>خدا</mark>ئی کی ایک بندے کو دے کر پور ا<mark>خدا</mark> بنا سکتا ہے۔پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سے ٹھہر جائیں گے۔اگر <mark>خدا</mark> تعالیٰ کسی بشر کو اپنے اذن اور ارادہ سے خالقیت کی صفت عطا کر سکتا ہے تو پھر وہ اس طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بخش سکتا ہے جو <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ کی طرح ہر جگہ حاضر ناظر ہو اور ظاہر ہے کہ اگر <mark>خدا</mark>ئی کی صفتیں بھی بندوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں تو پھر <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ کا وحدہ لاشریک ہونا باطل ہے۔جس قدر دنیا میں مخلوق پرست ہیں وہ بھی یہ تو نہیں کہتے کہ ہمارے معبود <mark>خدا</mark> ہیں بلکہ ان موحدوں کی طرح ان کا بھی درحقیقت یہی قول ہے کہ ہمارے معبودوں کو <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ نے <mark>خدا</mark>ئی کی طاقتیں دے رکھی ہیں۔رب اعلیٰ و بر تر تو وہی ہے اور یہ صرف <mark>چھوٹے</mark> <mark>چھوٹے</mark> <mark>خدا</mark> ہیں۔تعجب کہ یہ لوگ یا رسول اللہ کہنا شرک کا کلمہ سمجھ کر منع کرتے ہیں لیکن مریم کے ایک عاجز بیٹے کو <mark>خدا</mark>ئی کا حصہ دار بنارہے ہیں۔بھائیو! آپ لوگوں کا اگر در اصل یہی مذہب ہے کہ <mark>خدا</mark>ئی بھی مخلوق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی صفت خالقیت ور از قیت و عالمیت و قادر بیت وغیره میں ہمیشہ کے لئے شریک کر دیتا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنے بدعتی بھائیوں سے اس قدر جنگ و جدل کیوں شروع کر رکھی ہے وہ بیچارے بھی تو اپنے اولیاء کو <mark>خدا</mark> کر کے نہیں مانتے صرف یہی کہتے ہیں کہ <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے کچھ کچھ <mark>خدا</mark>ئی طاقتیں انہیں دے رکھی ہیں اور انہیں طاقتوں کی وجہ سے جو باذن الہی ان کو حاصل ہیں وہ کسی کو بیٹا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، نذریں نیازیں لیتے ہیں اور مرادیں دیتے ہیں۔اب اگر کوئی طالب حق یہ سوال کرے کہ اگر ایسے عقائد سراسر باطل اور مشر کا نہ خیالات ہیں تو ان آیات فرقانیہ کے صحیح معنے کیا ہیں جن میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مٹی کے پرندے بنا کر پھونک اُن میں مارتا تھا تو وہ باذن الہی پرندے ہو جاتے تھے؟ سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ؟ (۱) ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور <mark>خدا</mark>ئے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو