تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 453
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۳ سورة النساء کون موقعہ اور محل رہا۔ اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - اس کے بھی یہی معنے ہیں جو او پر گذر چکے اور وہی اعتراض ہے جو اوپر بیان ہو چکا۔ اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - اِس جگہ کفَرُوا سے مراد بھی یہود ہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام محض یہودیوں کے لئے آئے تھے اور اس آیت میں وعدہ ہے کہ حضرت مسیح کو ماننے والے یہود پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ اب بتلاؤ کہ جب ان معنوں کے رو سے جو ہمارے مخالف آیت وَ إِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ کے کرتے ہیں تمام یہودی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر یہ آیتیں کیونکر صحیح ٹھہر سکتی ہیں کہ یہود اور نصاری کی قیامت تک باہم دشمنی رہے گی اور نیز یہ کہ قیامت تک یہود ایسے فرقوں کے مغلوب رہیں گے جو حضرت مسیح کو صادق سمجھتے ہوں گے۔ ایسا ہی اگر مان لیا جاوے کہ حضرت مسیح زنده بجسم عنصری آسمان پر تشریف لے گئے تو پھر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کیوں کر صیح ٹھہر سکتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد عیسائی بگڑ گئے جب تک کہ وہ زندہ تھے عیسائی نہیں بگڑے۔ اور پھر اس آیت کے کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوفون کہ زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرو گے۔ کیا وہ شخص جو اٹھارہ سو برس سے آسمان پر بقول مخالفین زندگی بسر کر رہا ہے وہ انسانوں کی قسم میں سے نہیں ہے؟ اگر مسیح انسان ہے تو نعوذ باللہ مسیح کے اس مدت دراز تک آسمان پر ٹھہر نے سے یہ آیت جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اگر ہمارے مخالفوں کے نزدیک انسان نہیں ہے بلکہ خدا ہے تو ایسے عقیدہ سے وہ خود مسلمان نہیں ٹھہر سکتے۔ پھر یہ آیت قرآن شریف کی کہ اَمْوَاتٌ غَيْرُ احْيَاء جس کے یہ معنے ہیں کہ جن لوگوں کی خدا کے سوا تم عبادت کرتے ہو وہ سب مر چکے ہیں اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں۔ صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ۔ (تحفہ گولر و یه روحانی خزائن جلد ۱۷صفحه ۳۰۹، ۳۱۰ بعض لوگ محض نادانی سے یا نہایت درجہ کے تعصب اور دھوکا دینے کی غرض سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی پر اس آیت کو بطور دلیل لاتے ہیں کہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ الَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ اور اس سے یہ معنے نکالنا چاہتے ہیں کہ اس وقت تک حضرت عیسی فوت نہیں ہوں گے جب تک کل اہل کتاب اُن پر ایمان نہ لے آویں ۔ لیکن ایسے معنے وہی کرے گا جس کو فہم قرآن سے پورا حصہ نہیں ہے ۔ یا جو دیانت کے طریق سے دور ہے ۔ کیونکہ ایسے معنے کرنے سے قرآن شریف کی ایک پیشگوئی باطل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اور پھر دوسری جگہ فرماتا , -