تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 451
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ١٥ سورة النساء الكِتَابِي ذَكَرَ مَنْ كَانَ يُوجِهُ ذُلِكَ إِلَى أَنَّهُ إِذَا عَايَنَ عِلْمُ الْحَقِّ مِنَ الْبَاطِلِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْآيَةِ قَالَ لَا يَمُوتُ يَهُودِى حَتَّى يُؤْمِنَ بِعِيسَى وَكَذَا رَوَى أَبُوْدَاوُدُ الظَّيَالِسِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي هَارُونَ الْغَنْوِي عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَهَذِهِ كُلُّهَا أَسَانِيدُ صَحِيحَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ أَخَرُونَ مَعْنَى ذَلِكَ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِمُحَمَّدٍ قَبْلَ مَوْتِ الْكِتَابِي یعنی اس آیت کے معنے میں اہل تاویل کا اختلاف چلا آیا ہے۔ کوئی ضمیر قبل موته کی عیسی کی طرف پھیرتا ہے اور کوئی کتابی کی طرف اور کوئی بہ کی ضمیر حضرت عیسی کی طرف پھیرتا ہے اور کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔ پس گو ابن جریر یا ابنِ کثیر کا اپنا مذہب کچھ ہو یہ شہادت تو انہوں نے بڑی بسط سے بیان کر دی ہے کہ اس آیت کے معنے اہل تاویل میں مختلف فیہ ہیں اور ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ مسیح ابن مریم کے نزول اور حیات پر قطعی دلالت اس آیت کی ہر گز نہیں اور یہی ثابت کرنا تھا۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۰۷ تا ۲۱۴) رض ثُمَّ الْقَرِينَةُ الثَّانِيَةُ عَلى خَطَأَ ۔۔۔۔ في آيت قَبْلَ مَوْتِہ کے معنوں میں ابو ہریرة کے ايَةِ : " قَبْلَ مَوْتِهِ مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ أُبي بن غلطی کھانے پر دوسرا قرینہ حضرت ابی بن کعب کی كَعْبٍ أَعْنِي : مَوْتِهِمْ، فَإِنَّهُ يَقْرَأُ هُكَذَا : قراءت مَوْتِمُ ہے۔ وہ اس آیت کو یوں پڑھا وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ الَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ کرتے تھے وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ مَوْتِهم ، فَثَبَتَ مِنْ هَذِهِ الْقِرَاءَةِ أَنَّ قَبْلَ مَوْتِهِمْ پس اس قراءت سے ثابت ہو ہو گیا گیا کہ ضَمِيرَ لَفْظِ مَوْتِهِ لَا يَرْجِعُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ موتہ کے لفظ میں ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں جاتی السَّلَامُ ، بَلْ يَرْجِعُ إِلى أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِلی بلکہ اہل کتاب کی طرف جاتی ہے پس طالبانِ حق کے أَي ثَبُوْتٍ حَاجَةٌ بَعْدَ قِرَاءَةِ أُبي بْنِ كَعْبٍ لیے ابی بن کعب کی قراءت کے بعد کسی اور ثبوت کی لِقَوْمٍ طَالِبِينَ ثُمَّ مَعَ ذَلِكَ قَدِ اخْتُلِفَ ضرورت ہے؟ علاوہ ازین مفسرین نے بھی یہ کی ضمیر أَهْلُ التَّفْسِيرِ فِي مَرْجَعِ ضَمِيرِ بِهِ، فَقَالَ کے مرجع کے بارہ اختلاف کیا ہے ان میں سے بعض بَعْضُهُمْ إِنَّ هَذَا الضَّمِيرَ الَّذِي يُوجَدُ فِي نے کہا ہے کہ یہ ضمیر ليُؤْمِنَنَّ بِہ میں پائی جاتی ہے وہ ہے اور یہ سب آيَةٍ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ رَاجِعُ إِلى نَبِيِّنَا صَلَّى الله رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتی ہے اور یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُذَا أَرْبَعُ الْأَقْوَالِ وَقَالَ سے زیادہ مرتجح قول ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ضمیر