تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 448

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد لد ٧ سورة النساء داخل ہیں لیکن ضمیر تو واحد کی ہے صرف ایک کی طرف پھرے گی اور اگر وہ ایک بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی دوسرا ٹھہرایا جائے تو معنے فاسد ہوتے ہیں ۔ لہذا بالضرورت ماننا پڑا کہ اس ضمیر کا مرجع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس صورت میں موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے گی ۔ اگر آپ اس جگہ یہ اعتراض کریں کہ ایسے معنوں سے لیؤمنٹ کا لفظ استقبال کے خالص معنوں میں کیوں کر رہے گا تو میں اس کا یہ جواب دیتا ہوں کہ جیسے آپ کے معنوں میں رہا ہوا ہے۔اس وقت ذرہ آپ متوجہ ہو کر بیٹھ جائیں اور اس قادر سے مدد چاہیں جو سینوں کو کھولتا اور دلوں میں سچائی کا نور نازل کرتا ہے۔ حضرت سنیئے آپ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ ایک زمانہ قبل موت عیسی کے ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور بموجب روایت عکرمہ برعایت آپ کے نحوی قاعدہ کے یہ معنے ٹھہریں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے جس ایمان کے طفیل مسیح ابن مریم پر بھی ایمان لانا انہیں نصیب ہو جائے گا۔ اب حضرت اللہ جل شانہ سے ڈر کر فرمائیے کہ کیا آپ کے قطعیۃ الدلالت ہونے کا دعوی بکلی نابود ہو گیا۔ یا ابھی کچھ کسر باقی ہے۔ آپ خوب سوچ کر اور دل کو تھام کر بیان فرماویں۔ کہ آپ کی طرز تاویل میں کونسی خالص استقبال کی علامت خاص طور پر پائی جاتی ہے جو اس تاویل میں وہ نہیں پائی جاتی ۔ ناظرین برائے خدا آپ بھی ذرا سوچیں ۔ بہت صاف بات ہے ذرہ توجہ فرماویں۔ اے ناظرین آپ لوگ جانتے ہیں کہ کئی دن سے مولوی صاحب کی یہی بحث لگی ہوئی تھی اور فقط اسی بات پر ان کی ضد تھی کہ لفظ لیؤمنن لام اور نون ثقیلہ کی وجہ سے خالص استقبال کے معنوں میں ہو گیا ہے۔ اور مولوی صاحب اپنے گمان میں یہ سمجھ رہے تھے کہ خالص استقبال صرف اس طور کے معنے کرنے سے متحقق ہوتا ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر مسیح ابن مریم کی طرف پھیریں اور اس کی حیات کے قائل ہو جائیں ۔ اور اب اے بھائیو میں نے ثابت کر کے دکھلا دیا کہ خالص استقبال کیلئے یہ ضروری نہیں کہ قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف پھیری جائے بلکہ اس جگہ حضرت عیسی کی طرف ضمیر بہ اور ضمیر قَبْلَ مَوْتِهِ پھیرنے سے معنے ہی فاسد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ فقط عیسی پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی نہیں۔ بلکہ سچے اور واقعی معنے اس طرز پر یہی ہیں کہ ضمیر بہ کی ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیری جائے اور ضمیر قبل موتہ کی کتابی کی طرف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں خود حضرت عیسی وغیرہ انبیاء