تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 433

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۳ سورة النساء جائیں وہ مومن نہیں ہوتا جیسا کہ قرآن شریف بھی فرماتا ہے لا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (ص : ۵۱،۵۰) یعنی کافروں کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ مگر مومنوں کیلئے فرماتا ہے مُفَتَّحَةً لَهُمُ الأبواب (الاعراف: (۴۱) ۔ یعنی مومنوں کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے ۔ پس یہودیوں کا یہی جھگڑا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فر ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف اُن کا رفع نہیں ہوا۔ یہودی اب تک زندہ ہیں مر تو نہیں گئے ۔ اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا کیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جاتا اور اُس کے جسم کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ جہالت بھی ایک عجیب بلا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی نافہمی سے کہاں کی بات کہاں تک پہنچادی اور ایک فوت شدہ انسان کے دوبارہ آنے کے منتظر ہو گئے حالانکہ حدیثوں میں حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس برس مقرر ہو چکی ہے۔ کیا وہ ایک سو بیس برس اب تک نہیں گزرے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۷ تا ۴۰) اگر آیت بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کے یہ معنی ہیں کہ حضرت عیسی مع جسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے تو ہمیں کوئی دکھلائے کہ قرآن شریف میں وہ آیت کہاں ہے جو امر متنازعہ فیہ کا فیصلہ کرتی ہے یعنی جس میں یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا بعد موت مومنوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہوگا اور وہ مرنے کے بعد یحییٰ وغیرہ انبیاء کے ساتھ جا ملیں گے کیا نعوذ باللہ خدا کو یہ دھو کہ لگا کہ یہود کی طرف سے انکار تو تھا اُن کے رفع روحانی کا جو مومن کا بعد موت ہوتا ہے اور خدا نے کچھ اور کا اور سمجھ لیا۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هُذَا الْافْتِرَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۹ حاشیه ) یہود کا اعتراض تو یہی تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ چونکہ سولی چڑھائے گئے ہیں اس واسطے وہ ملعون ہیں اور صاف بات ہے کہ ملعون کا رفع روحانی نہیں ہو سکتا۔ اسی کے جواب میں قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - اچھا ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر یہودیوں کا یہی اعتراض تھا کہ حضرت عیسی کا رفع جسمانی نہیں ہوا تو پھر قرآن شریف جو کہ ان دونوں قوموں میں حکم ہو کر آیا ہے اس نے یہود کے اس اعتراض کا کیا جواب دیا ہے۔ کیا وجہ کہ قرآن شریف نے یہود کے اصل اعتراض کا تو کہیں جواب نہ دیا اور رفع روحانی پر اتناز ور دیا اور رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ فرمایا رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ کیوں نہ فرمایا ہے؟ عرش الہی ایک وراء الوراء مخلوق ہے جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ۔ ہے۔ یہ یہ نہیں