تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 429

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ سورة النساء - دور کر دیں مگر اس منصوبہ میں انہوں نے نہایت نادانی ظاہر کی کیونکہ یہودیوں کا یہ تو عقیدہ نہیں کہ جو شخص مع جسم آسمان پر نہ جاوے وہ بے دین اور کافر ہوتا ہے اور اس کی نجات نہیں ہوتی ۔ کیونکہ بموجب عقیدہ یہودیوں کے حضرت موسی بھی مع جسم آسمان پر نہیں گئے ۔ یہودیوں کی حجت تو یہ تھی کہ بموجب حکم تو ریت کے جو شخص کا ٹھ پر لٹکایا جائے اس کی روح آسمان پر اٹھائی نہیں جاتی کیونکہ صلیب جرائم پیشہ لوگوں کے ہلاک کرنے کا آلہ ہے۔ پس خدا اس سے پاک تر ہے کہ ایک مطہر اور راستباز مومن کو صلیب کے ذریعہ ہلاک کرے سوتو ریت میں یہی حکم لکھ دیا گیا کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے وہ مومن نہیں اور اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی نہیں جاتی یعنی رفع الی اللہ نہیں ہوتا اور جب کہ مسیح صلیب کے ذریعہ سے ہلاک ہو گیا تو اس سے نعوذ باللہ بقول یہود ثابت ہو گیا کہ وہ ایمان دار نہ تھا۔ اور اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی نہیں گئی ۔ پس اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ مسیح مع جسم آسمان پر چلا گیا یہ حماقت ہے اور ایسے ہے جو بیہودہ جواب سے یہودیوں کا اعتراض بدستور قائم رہتا ہے کیونکہ ان کا اعتراض رفع روحانی کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو نہ رفع جسمانی کے متعلق جو آسمان کی طرف ہو۔ اور قرآن شریف جو اختلاف نصاری اور یہود کا فیصلہ کرنے والا ہے اس نے اپنے فیصلہ میں یہی فرمایا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کہ یعنی خدا نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور ظاہر ہے کہ خدا کی طرف رُوح اٹھائی جاتی ہے نہ جسم ۔ خدا نے یہ تو نہیں فرمایا کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ بلکہ فرمایا کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اور اس مقام میں خدا تعالیٰ کا صرف یہ کام تھا جو یہودیوں کا اعتراض دور کرتا جو رفع روحانی کے انکار میں ہے اور نیز عیسائیوں کی غلطی کو ڈور فرماتا۔ پس خدا تعالیٰ نے ایک ایسا جامع لفظ فرمایا جس سے دونوں فریق کی غلطی کو ثابت کر دیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ صرف یہی ثابت نہیں کرتا کہ مسیح کا رفع روحانی خدا تعالیٰ کی طرف ہو گیا اور وہ مومن ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ آسمان کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا کیونکہ خدا تعالیٰ جو جسم اور جہات اور احتیاج مکان سے پاک ہے اس کی طرف رفع ہونا صاف بتلا رہا ہے کہ وہ جسمانی رفع نہیں بلکہ جس طرح اور تمام مومنوں کی روحیں اُس کی طرف جاتی ہیں ۔ اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی روح بھی اُس کی طرف گئی ۔ ہر ایک ذی علم جانتا ہے کہ قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے کہ جب مومن فوت ہوتا ہے اس کی روح خدا کی طرف جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر : ۲۸ تا ۳۱) ۔ یعنی اے رُوح اطمینان یافتہ