تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 416
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۶ سورة النساء كِتَابَ اللهِ، فَصَلَبُوهُ بِزَعْمِهِمْ ، وَفَرِحُوا باقی نہ رہے سو انہوں نے اپنے زعم کے مطابق اس کو صلیب بِأَنَّهُمْ أَثْبَتُوا مَلْعُوْنِيَّتَهُ وَعَدْمِ رَفْعِهِ پر مار دیا اور اس بات پر خوش ہو گئے کہ انہوں نے تو رات بِالتَّوْرَاةِ، وَلكِنَّ اللهَ نَجَاهُ مِنْ حِيَلِهِمْ کے مطابق مسیح کی ملعونیت اور عدم رفع کو ثابت کر دیا ہے وَقَتْلِهِمْ، فَأَخْبَرَ عَنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے حیلوں اور قتل کی کوششوں كِتَابِهِ الَّذِي أَنزَلَ بَعْدَ الْإِنْجِيلِ حَكَمًا سے نجات دی پھر اس قصہ کو اپنی کتاب میں بیان فرمادیا عَدْلًا وَمُبَيِّنَا لِظُلْمِ كُلِّ قَوْمٍ جس کو انجیل کے بعد بطور حکم و عدل نازل کیا تھا اور جو ہر قوم وَإِيْنَ آئِهِمْ وَكَيْدِهِمْ وَمُكَذِّبًا کے ظلم اور ان کی ایذا رسانی اور ان کی تدبیروں کو واضح کرنے لِلْكَافِرِينَ فَكَأَنَّهُ يَقُولُ يَا حِزْبَ والی اور کافروں کو جھوٹا ٹھہرانے والی ہے گویا اللہ تعالیٰ فرماتا الْمَاكِرِينَ يَا أَعْدَاءَ الصِّدْقِ ہے اے مکر کرنے والوں کے گروہ اور اے سچائی اور صادقوں وَالصَّادِقِينَ لِمَ تَقُولُونَ إِنَّا قَتَلْنَا کے دشمنوں ۔ تم کیوں یہ کہتے ہو کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَصَلَبْنَا وَأَثْبَتْنَا کر دیا اور صلیب پر مار دیا اور ثابت کر دیا کہ آپ ملعون ہیں أَنَّهُ مَلْعُوْنَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ فَأُخْبِرُكُمْ مرفوع نہیں ۔ پس اے خبیث قوم میں تم کو بتاتا ہوں کہ نہ تم أَيُّهَا الْقَوْمُ الْخَبِيثُونَ، أَنَّكُمْ مَا نے اس کو قتل کیا ہے نہ ہی صلیب پر مارا ہے بلکہ در حقیقت قَتَلْتُمُوهُ وَمَا صَلَبْتُمُوهُ وَلكِنْ شُبّة مسیح مقتول اور مصلوب کے مشابہ بنایا گیا اور تم خود بھی اپنے لَكُمْ، وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ فِي أَنْفُسِكُمْ دلوں میں خوب سمجھتے ہو کہ تم نے مسیح کو ہر گز قتل نہیں کیا بلکہ أَنَّكُمْ مَا قَتَلْتُمُوهُ يَقِينَا، بَلْ نَجَّاهُ الله اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے مکر سے بچالیا اور اسے وہ روحانی مِنْ مَّكْرِكُمْ وَرَزَقَهُ الرَّفْعَ الرُّوحَانِي رفع عطا کیا جو تم اس کے لیے نہیں چاہتے تھے اور تم حیلے کر الَّذِي كُنْتُمْ لَا تُرِيدُونَ لَهُ وَتَمْكُرُونَ رہے تھے کہ اسے یہ مقام حاصل نہ ہو مگر اسے یہ مقام لِئَلَّا يَحْصِلَ لَهُ ذُلِكَ الْمَقَامُ، فَقَدْ حاصل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا رفع فرمایا اور اللہ تعالیٰ حَصَلَ لَهُ وَ رَفَعَهُ اللهُ وَكَانَ الله غالب اور حکمت والا ہے اور یہ قول یعنی عَزِيزًا حَكِيمًا اس عَزِيزًا حَكِيمًا وَهُذَا الْقَوْلُ يَعْنِی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت دیتا قَوْلَهُ تَعَالَى عَزِيزًا حَكِيمًا إِشَارَةٌ إِلى ہے اور اپنے برگزیدہ لوگوں کی عزت کی دقیق کامل اور لطیف أَنَّ اللهَ يُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ ، وَيَحْفَظ حکمت کے ساتھ حفاظت کرتا ہے۔ کسی مکر کرنے والے کا مکر