تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 414
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة النساء فِي تَفْسِيرِهِ طَرِيقًا يُوجِبُ التَّعَارُضَ کرتے وقت کوئی ایسا طریق اختیار نہ کریں جو کسی تناقض یا وَالتَّنَاقُضَ، وَمَا كَانَ لِلْيَهُودِ غَرْضٌ تعارض کا موجب ہو ۔ اور ( یہ بات مد نظر رہے کہ ) یہود کو وَبَحْتُ فِي رَفْعِ جِسْمِهِ أَوْ عَدْمٍ رَفْعِهِ، فَلا حضرت مسیح کے جسم کے اٹھائے جانے یا نہ اُٹھائے جانے بُدَّ مِنْ أَنْ تُفَسِرَ الرَّفْعَ فِي آيَةِ بَلْ رَّفَعَهُ سے کوئی غرض اور بحث نہیں تھی پس ضروری ہے کہ ہم آیت اللهُ بِالرَّفْعِ الرُّوْحَانِي كَمَا هُوَ مَفْهُوهُ آيَةٍ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں رفع سے مراد رفع روحانی لیں جیسا ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَإِنَّ که آیت ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً کا مفہوم ہے الرُّجُوعَ إِلَى اللهِ تَعَالَى رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً كيونكہ اللہ تعالی کی طرف کی حالت رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً کی وَالرَّفْعَ إِلَيْهِ أَمْرٌ وَاحِدٌ لَّا فَرْقَ بَيْنَهُمَا حالت میں رجوع اور اس کی طرف رفع دونوں ایک ہی ہیں مَعْنَى ثُمَّ انْظُرُ وَتَدَبَّرُ وَهَبَكَ اللهُ مِنْ اور ان دونوں میں معنا کوئی فرق نہیں پھر نظر ڈالو اور غور وفکر عِنْدِهِ قُوَّةَ الْفَيْصَلَةِ أَنَّ النَّزَاعَ كَانَ فِي کرو اللہ تعالی تمہیں اپنے پاس سے قوت فیصلہ عطا کرے الرَّفْعِ الرُّوْحَانِي لَا فِي الرَّفْعِ الْجِسْماني کہ جھگڑا تو رفع روحانی میں ہے نہ کہ رفع جسمانی میں کیونکہ فَإِنَّ الْيَهُودَ كَانُوا مُنْكِرِينَ مِنْ رَفْعِ یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کے اس رفع الی اللہ کے منکر عِيسَى إِلَى اللَّهِ كَمَا يُرْفَعُ الْمُطَهَّرُونَ تھے جو خدا تعالیٰ کے پاک اور مقربین انبیاء کو نصیب ہوتا الْمُقَرَّبُونَ مِنَ النَّبِيِّينَ، وَكَانُوا يُصِرُّونَ (لَعَنَهُمُ اللهُ عَلَى أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ عیسی علیہ السلام السَّلَامُ مِنَ الْمَلْعُونِينَ لَا مِنَ ملعونوں میں سے ہیں نہ کہ ان لوگوں میں سے جن کا رفع الْمَرْفُوعِيْنَ، كَمَا أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِلَى هَذِهِ اللہ کی طرف ہوتا ہے (لَعَنَهُمُ اللهُ ) جیسا کہ وہ آج الْأَيَّامِ، وَكَانُوا يَسْتَدِلُونَ (غَضِبَ الله کے دن تک کہہ رہے ہیں اور وہ ( غَضِبَ اللهُ عَلَيْهِمْ ) عَلَيْهِمْ) عَلَى مَلْعُوْنِيَّتِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مسیح علیہ السلام کی ملعونیت پر آپ کے صلیب دیئے جانے مِن مَّصْلُوبِيَّتِهِ، فَإِنَّ الْمَصْلُوبَ مَلْعُوْنَ سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب میں مصلوب غَيْرُ مَرْفُوعَ فِي دِينِهِمْ كَمَا جَاءَ في ملعون ہوتا ہے مرفوع نہیں ہوتا۔ جیسا کہ تو رات کی کتاب التَّوْرَاةِ فِي كِتَابِ الْإِسْتِثْنَاءِ ، فَأَرَادَ اللهُ استثناء میں بیان ہوا ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ تَعَالَى أَنْ يُبَرِ نَبِيَّهُ عِيسَى الله مِنْ هذا وہ اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس بہتان سے ل الفجر : ٢٩