تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔۔ ور لكن شُبّهَ لَهُمْ سے اور واضح کر دیا کہ وہ زندہ ہی تھا یہودیوں نے مردہ سمجھ لیا۔ سورة النساء اگر آسمان پر اٹھایا جاتا تو خدا تعالیٰ کی قدرت پر ہنسی ہوتی کہ اصل مقصود تو بچانا تھا یہ کیا تماشا کیا کہ دوسرے آسمان سے پہلے بچا ہی نہ سکا۔ چاہیے تھا کہ ایک یہودی کو ساتھ لے جاتے اور آسمان سے گرا دیتے تا کہ ان کو معلوم ہو جاتا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۶ ) یہود لوگ حضرت مسیح (علیہ السلام ) کو دو وجہ سے ملعون ٹھہراتے تھے کہ ایک ان کو ولد الزنا کہہ کر دوسرا مصلوب کرنے کے لحاظ سے ۔ جب خدا تعالیٰ نے ان کے ولد الزنا ہونے کا ذب کیا ہے تو چاہیے تھا کہ ان کے مصلوب ہونے کا بھی ذب کرتا۔ جسم کے ساتھ آسمان پر جانا تو ایک الگ تھلگ امر ہے اول ذب دلالت کرتا ہے کہ دوسرا بھی ذب ہو۔ البدر جلد ا نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۱، ۲۲) عام محاورہ زبان میں اگر یہ کہا جاوے کہ فلاں مصلوب ہوا یا پھانسی دیا گیا تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ صلیب پر اس کی جان نکل گئی اگر کوئی مجرم پھانسی پر لٹکا یا جاوے مگر اس کی جان نہ نکلے اور زندہ اتار لیا جاوے تو کیا اس کی نسبت پھانسی دیا گیا یا مصلوب کا لفظ بولا جاوے گا ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ اس کی نسبت یہ الفاظ بولنے ہی جرم ہوں گے ۔ مصلوب اسے کہتے ہیں جس کی جان صلیب پر نکل جاوے اور جس کی جان نہ نکلے اسے مصلوب نہیں کہتے خواہ وہ صلیب پر چڑھا کر اتار لیا گیا ہو۔ یہودی زندہ موجود ہیں ان سے دریافت کرلو کہ آیا مصلوب کے یہ معنے ہیں جو ہم کرتے ہیں یا وہ جو ہمارے مخالف کرتے ہیں ۔ پھر محاورہ زبان کو بھی دیکھنا چاہیے مَا صَلَبُوہ کے ساتھ ہی مَا قَتَلُوهُ رَکھ دیا کہ بات سمجھ میں آجاوے کہ صلیب سے مراد جان لینی تھی جو کہ نہیں لی گئی اور صلیبی قتل وقوع میں نہیں آیا۔ شُبِّهَ لَهُمْ کے معنے ہیں مشبہ بالمصلوب ہو گیا اس میں ان لوگوں کا یہ قول کہ کوئی اور آدمی مسیح کی شکل میں بن گیا تھا بالکل باطل ہے عقل بھی اسے قبول نہیں کرتی اور نہ کوئی روایت اس کے بارے میں صحیح ۔۔۔ موجود بھلا سوچ کر دیکھو کہ اگر کوئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا تو وہ دو حال سے خالی نہ ہوگا یا تو مسیح کا دوست ہوگا یا اس کا دشمن ۔ اگر دوست ہوگا تو یہ اعتراض ہے کہ جس لعنت سے خدا نے مسیح کو بچانا چاہا۔ وہ اس کے دوست کو کیوں دی ؟ اس سے خدا ظالم ٹھہرتا ہے اور اگر وہ دشمن تھا تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ مسیح کی جگہ پھانسی ملتا ہے اس نے دو ہائی دی ہوگی اور چلایا ہو گا کہ میرے بیوی بچوں سے پوچھو میر افلاں نام ہے اور میں مسیح نہیں ہوں پھر اکثر موجودہ آدمیوں کی تعداد میں سے بھی ایک آدمی کم ہو گیا ہو گا جس سے معا پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ شخص مسیح