تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 397
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۷ سورة النساء مرنا اس منشاء کی آیت مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور آیت وَ مَا قَتَلُوهُ يَقِينا کے ساتھ پورے طور پر تشریح کر دی کیونکہ جس شخص کی موت قتل وغیرہ خارجی ذریعوں سے نہیں ہوئی اس کی نسبت یہی سمجھا جائے گا کہ وہ طبعی موت سے مرا ہے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ فقرہ وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ مُتَوَفِّيكَ کے لفظ کے لیے بطور تشریح واقع ہوا ہے اور جب قتل اور صلیب کی نفی ثابت ہوئی تو بموجب اس قول کے کہ إِذَا فَاتَ الشرط فَاتَ الْمَشْرُوطُ رفع الی اللہ حضرت عیسیٰ کا ثابت ہو گیا اور یہی مطلوب تھا۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۳۸۱ تا ۳۸۳) چونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے موافق کسی نبی کا رفع روحانی طبعی موت پر موقوف ہے اور قتل اور صلیب رفع روحانی کا مانع ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے اوّل یہود کے رد کے لیے یہ ذکر فرمایا کہ عیسی کے لیے طبعی موت ہوگی اور پھر چونکہ رفع روحانی طبعی موت کا ایک نتیجہ ہے اس لیے لفظ مُتَوَفِّيكَ کے بعد رَافِعُكَ إِلَى لکھ دیا تا یہودیوں کے خیالات کا پورارد ہو جائے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۳۸۲ حاشیه ) کہتے ہیں کہ مسیح کی شبیہ کو سولی دی گئی مگر میں کہتا ہوں کہ اس میں حصر عقلی یہی بتاتا ہے کہ وہ شخص جو مسیح کی شبیہ بنایا گیا یا دشمن ہوگا یا دوست اگر وہ دشمن تھا تو ضرور تھا کہ وہ شور مچاتا کہ میں مسیح نہیں ہوں اور میرے فلاں رشتہ دار موجود ہیں میرا اپنی بیوی کے ساتھ فلاں راز ہے مسیح کو تو میں ایسا سمجھتا ہوں ۔ غرض وہ شور مچا کر اپنی صفائی اور بریت کرتا حالانکہ کسی تاریخ صحیح سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ جو شخص صلیب پر لٹکایا گیا تھا اس نے شور مچا کر رہائی حاصل کر لی تھی ۔ اور اگر وہ مسیح کا دوست اور حواری ہی تھا پھر صاف بات ہے کہ وہ مومن باللہ تھا اور وہ صلیب پر مرنے کی وجہ سے بلا وجہ ملعون ہوا اور خدا نے اس کو ملعون بنایا۔ رہی یہ بات کہ مصلوب ملعون کیوں ہوتا ہے؟ یہ عام بات ہے کہ جو چیز کسی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے وہ اس کے ساتھ منسوب ہو جاتی ہے۔ سولی کو مجرموں کے ساتھ تعلق ہے جو گو یا کاٹ دینے کے قابل ہوتے ہیں اور خدا کا تعلق مجرم کے ساتھ کبھی نہیں ہوتا یہی لعنت ہے اس وجہ سے وہ ملتی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک مؤمن ناکردہ گناہ ملعون قرار دیا جاوے۔ پس یہ دونوں باتیں غلط ہیں اصل وہی ہے جو اللہ تعالی نے ہم پر ظاہر کی کہ مسیح کی حالت غشی وغیرہ سے ایسی ہو گئی جیسے مردہ ہوتے ہیں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ رفروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۸،۷ ) - میں اس کو نہیں مانتا کہ وہ (حضرت مسیح علیہ السلام ) صلیب پر مرے ہوں بلکہ میری تحقیقات سے یہی