تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 381

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۱ سورة النساء ہے۔ مسیح چودھویں صدی کا مجد دتھا اور اگرچہ یہودیوں کو اس چودھویں صدی میں مسیح موعود کا انتظار بھی تھا اور گذشتہ نبیوں کی پیشگوئیاں بھی اس وقت پر گواہی دیتی تھیں لیکن افسوس کہ یہودیوں کے نالائق مولویوں نے اس وقت اور موسم کو شناخت نہ کیا اور مسیح موعود کو جھوٹا قرار دے دیا۔ نہ صرف یہی بلکہ اس کو کافر قرار دیا اس کا نام ملحد رکھا اور آخر اس کے قتل پر فتوی لکھا اور اس کو عدالت میں کھینچا اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ خدا نے چودھویں صدی میں کچھ تاثیر ہی ایسی رکھی ہے جس میں قوم کے دل سخت اور مولوی دنیا پرست اور اندھے اور حق کے دشمن ہو جاتے ہیں اس جگہ اگر موسیٰ کی چودھویں صدی اور موسیٰ کے مثیل کی چودھویں صدی کا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں باہم مقابلہ کیا جائے تو اول یہ نظر آئے گا کہ ان دونوں چودھویں صدیوں میں دو ایسے شخص ہیں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا اور وہ دعوئی سچا تھا اور خدا کی طرف سے تھا۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوگا کہ قوم کے علماء نے ان دونوں کو کافر قرار دیا اور ان دونوں کا نام ملحد اور دجال رکھا اور ان دونوں کی نسبت قتل کے فتوے لکھے گئے اور دونوں کو عدالتوں کی طرف کھینچا گیا جن میں سے ایک رومی عدالت تھی اور دوسری انگریزی۔ آخر دونوں بچائے گئے اور دونوں قسم کے مولوی یہودی اور مسلمان ناکام رہے۔ اور خدا نے ارادہ کیا کہ دونوں مسیحوں کو ایک بڑی جماعت بنا دے اور دونوں قسم کے دشمنوں کو نامراد رکھے۔ غرض موسیٰ کی چودھویں صدی اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چودھویں صدی اپنے اپنے مسیحوں کے لیے سخت بھی ہیں اور انجام کار مبارک بھی ۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب ۲۶ میں یعنی آیت ۳۶ سے ۴۶ تک مرقوم ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار کیے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الہی میں رورو کر سجدے کرتے ہوئے دعا کرتے رہے۔ اور ضرور تھا کہ ایسی تضرع کی دعا جس کے لیے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بیقراری کے وقت کا سوال ہو ہر گز رد نہیں ہوتا پھر کیوں مسیح کی ساری رات کی دعا اور دردمند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی دعار د ہو گئی حالانکہ مسیح دعوی کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے پس کیوں کر باور کیا جائے کہ خدا اس کی سنتا تھا جبکہ ایسی بیقراری کی دعاسنی نہ گئی اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دلی یقین تھا کہ اس کی وہ دعاضر ور قبول ہوگئی اور اس دعا پر اس کو بہت بھروسہ تھا۔ اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اس نے اپنی