تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 22

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة ال عمران فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ آيت : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ، فَانْظُرْ كَيْفَ اللهُ میں اشارہ فرمایا پس دیکھو! کس طرح اللہ تعالیٰ نے جَعَلَ الْأُمَّةَ أَحِبَّاءَ اللهِ بِشَرْطِ اتَّبَاعِهِمْ افراد امت کو اپنے محبوب قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ حبوبوں کے وَاقْتِدَائِهِمُ بِسَيِّدِ الْمَحْبُوبِينَ۔ سردار ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کریں اور آپ کے (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ے صفحہ (۱۳) | نمونہ پر چلیں۔ (ترجمه از مرتب) خدا نے انبیاء علیہم السلام کو اسی لئے اس دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوّت لغو ٹھہرتی ہے۔ نبی اس لئے نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پس خدا جس سے محبت کرے گا کون سی نعمت ہے جو اُس سے اٹھا رکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہوگا۔ ہے۔ اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر وہی جو جاہل، سفیہ یا ملحد بے دین ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۱۲،۴۱۱) وو سوال مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہے: ” میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندے ہو کہ میں تمہیں آرام دوں گا ۔ اور یہ کہ میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں، میں زندگی اور راستی ہوں ۔ کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں ؟ 66 - الجواب قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله الخ ۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔ یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گذشتہ اقوال پر غالب ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے ۔ پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے، اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۷۲) میرے نزدیک مومن وہی ہوتا ہے جو آپ کی اتباع کرتا ہے اور وہی کسی مقام پر پہنچتا ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله ۔ یعنی کہہ دو کہ اگر تم اللہ