تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 8

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ باوجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا۔ کیا امید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ! ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے بلکہ بہت سے دلائل سے اُن پر حجت وارد ہوگئی مگر وہ خواب غفلت میں سورہے ہیں۔ 6 البدر جلد ۲، نمبر ۴۸ ، مورخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۸۲، ۳۸۳) پیشگوئی میں کسی قدر اخفاء اور متشابہات کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہی ہمیشہ سے سنت الہی ہے۔ ملا کی نبی اگر اپنی پیشگوئی میں صاف لکھ دیتا کہ الیاس خود نہ آئے گا بلکہ اس کا مثیل ، تو حضرت عیسیٰ کے ماننے میں اس قدر دقتیں اس زمانہ کے علماء کو پیش نہ آتیں۔ ایسا ہی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیشگوئیاں توریت اور انجیل میں ہیں وہ نہایت ظاہر الفاظ میں ہوتیں کہ آنے والا نبی آخر زمان، اسماعیل کی اولاد میں سے ہوگا اور شہر مکہ میں ہو گا تو پھر یہودیوں کو آپ کے ماننے سے کوئی انکار نہ ہو سکتا تھا لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ ان میں متقی کون ہے جو صداقت کو اس کے نشانات سے دیکھ کر پہچانتا ( بدر جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۱۶ رمئی ۱۹۰۷ صفحه (۳) اور اُس پر ایمان لاتا ہے۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ انْتَ الْوَهَّابُ ۔ اے ہمارے خدا! ہمارے دل کو لغزش سے بچا اور بعد اس کے جو تو نے ہدایت دی ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت کو تو ہی بخشتا ہے۔ ( تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۲۷) رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الميعادة خدا تخلف وعدہ نہیں کرے گا۔ (براہین احمد یہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۵ حاشیہ نمبر ۱) وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پا چکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس