تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة نے ایسی تعلیم دی ہے جو انسانی قومی کی تکمیل کرتی ہے اور عفو اور انتظام کو محل اور موقع پر رکھنے کے واسطے اس سے بڑھ کر تعلیم نظر نہیں آئے گی ۔ اگر کوئی اس تعلیم کے خلاف اور کچھ پیش کرتا ہے تو وہ گویا قانونِ الہی کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے بعض طبائع طبعاً عفو چاہتی ہیں اور بعض مار کھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ سب عدالتیں قرآن شریف کی تعلیم کے موافق کھلی رہ سکتی ہیں اگر انجیل کے مطابق کریں تو آج ہی سب کچھ بند کرنا پڑے اور پھر دیکھو کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ انسان انجیلی تعلیم پر عمل نہیں کر سکتا ۔ پس یہ دو نمونے علمی اور عملی تقویٰ کے ہوتے ہیں لیکن اس کے سوا تیسری قسم تقویٰ کی ہے يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ انسان قوت شہادت کا محتاج ہے ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ پاک شہادتوں سے دور ہو۔ وہ راہ خطرناک راہ ہے جس میں راست بازوں کی شہادتیں موجود نہیں ہیں ۔ تقویٰ کی راہ یہی ہے کہ جس میں زبردست شہادتیں ہر زمانہ میں زندہ موجود ہوں مثلاً تم نے راہ پوچھا کسی نے کچھ کہا کہ یہ راہ فلاں طرف جاتا ہے مگر دس کہتے ہیں کہ نہیں یہ تو فلاں طرف جاتا ہے تو اب تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اُن بھلے مانس آدمیوں کی بات مان لو۔ یا د رکھو کہ شہادت پاک بازوں کی ہی مقبول اور موزوں ہوتی ہے۔ بد معاشوں کی شہادت کبھی مقبول نہیں ہو سکتی یہ تیسری قسم تقویٰ کی ہے جو يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ میں بیان ہوئی ہے اس کو چھوڑ کر بھی لوگ بہت خراب ہوتے ہیں ہمارے ساتھ جو لوگوں نے مخالفت کی ہے تو اسی وجہ سے کہ اُنہوں نے تقوی کی اس قسم کو چھوڑ دیا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ء صفحه ۱) متقی کی تعریف اور ایمان کی فلاسفی تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ میں گناہ میں پڑتا ہوں تو دُعا اور تدبیر سے کام لیوے۔ ور نہ نادان ہوگا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۳، ۴) کہ جو شخص تقوی اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اس کے لئے پیدا کر دیتا ہے۔ متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ - ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اُڑ نہیں باندھتے بلکہ جو بات پردہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجمہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے