تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 452
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۲ سورة البقرة ہے ۔۔۔۔۔۔ غرض مومن کو خدا تعالیٰ ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔ جو پڑتا ہے وہ اپنی ہی کمزوری کی وجہ سے پڑتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۶،۵) ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ان کی تنخواہ میں سے ار( ایک آنہ ) فی روپیہ کاٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ زائد روپیہ بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے۔ فرمایا کہ شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔ یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ شود کہلا وے گا۔ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں ۔ اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی وقت اُسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ ) دے دیا ہو۔ یہ خیال رہنا چاہئے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔ خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۵) شود کی تعریف یہ ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کے لئے روپیہ قرض دیا جاوے یہ تعریف جہاں صادق آتی ہے وہ سود ہے۔ لیکن جبکہ محکمہ ریلوے کے ملازم خود وہ روپیہ سود کے لالچ سے نہیں دیتے بلکہ جبرا وضع کیا جاتا ہے تو یہ سود کی تعریف میں داخل نہیں ہے۔ اور خود جو کچھ وہ روپیہ زائد دے دیتے ہیں وہ داخل شود نہیں ہے۔ غرض یہ خود دیکھ سکتے ہو کہ آیا یہ روپیہ سود لینے کے لئے تم خود دیتے ہو یا وہ خود وضع کرتے ہیں اور بلا طلب اپنے طور پر دیتے ہیں ۔ الحکم جلد کے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۶) ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خان صاحب نے لکھا ہے : اَضْعَافًا مُضَاعَفَا کی ممانعت ہے۔ فرمایا: کہ یہ بات غلط ہے کہ شود در سود کی ممانعت کی گئی ہے اور شود جائز رکھا ہے شریعت کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے۔ یہ فقرہ اسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ۔ اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔ اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جبکہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ