تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 448
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ママフ سورة البقرة جو روحانی طور پر بھوکے پیاسے ہوں گے اُن کی اسی طور سے پوری حاجت براری کرے گا۔ پس اگر یہ تذکرہ کسی اور جگہ نہیں تو یقیناً یا درکھو کہ یہ وہی تذکرہ ہے جو استعارہ کے رنگ پر بیان کیا گیا ہے۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۳ جولائی ۱۹۰۰ ء صفحہ ۳) علوم ہیں ہی کیا؟ صرف خواص الاشیاء ہی کا تو نام ہے۔ سیارہ، ستارہ، نباتات کی تاثیریں اگر نہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ کی کی صفت علیم پر ایمان لانا انسان کے لئے مشکل ہو جاتا یہ ایک یقینی امر ہے کہ ہمارے علم کی بنیہ بنیاد خواص الاشیاء ہے۔ اس سے یہ غرض ہے کہ ہم حکمت سیکھیں ، علوم کا نام حکمت بھی رکھا ہے چنانچہ فرمایا : وَمَنْ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۴۶) قرآن شریف کو خدا تعالیٰ نے خیر کہا ہے چنانچہ فرمایا : وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا - پس قرآن شریف معارف اور علوم کے مال کا خزانہ ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآنی معارف اور علوم کا نام بھی مال رکھا ہے۔ دنیا کی برکتیں بھی اسی کے ساتھ آتی ہیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۱ ء صفحه ۷ ) جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرا یہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرا یہ میں دوست بنا دیتی ہے پس جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ١٢٦) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے : يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ - الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۸) انسان اصل میں انسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں ؟ ایک اللہ تعالیٰ سے دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے، جب یہ دونو انس اس میں پیدا ہو جاویں اُس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسانیت کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الالباب کہلاتا ہے۔ جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں ۔ ہزار دعویٰ کرو اور دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے نبی اور فرشتوں کے نزدیک پیچ ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُم مِّنْ سَيِّاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۲۷۲) اگر تم ظاہر کر و خیرات کو تو وہ اچھا ہے اور اگر تم خیرات کو چھپاؤ تو وہ بہت ہی اچھا ہے۔ ایسی خیرات تمہاری بُرائیاں دور کرے گی۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۱۵)