تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 432

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لداله سورة البقرة یعنی دین کو جبر سے شائع نہیں کرنا چاہئے ۔ ( مجموعہ اشتہارات ،جلد دوم صفحہ ۴۶۸) يَقُولُونَ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے دین میں وَيَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ فِي الْكِتَابِ جبر و اکراہ نہیں ہے اور آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کو الْمُبِينِ، ثُمَّ يَقُولُونَ قَوْلًا خَالَفَ قرآن مجید میں پڑھتے ہیں پھر بھی اس قول کی مخالفت کرتے ذَلِكَ وَيُصِرُونَ عَلَى أَنَّ مَهْدِيَهُمْ ہیں بلکہ اصرار کرتے ہیں کہ مہدی تلوار لے کر نکلیں گے اور يَخْرُجُ بِالْحُسَامِ، وَلَا يُقْبَلُ إِلَّا جنگ کریں گے حتی کہ اسلام کے سوا کوئی اور چیز قبول نہیں کریں گے اور عدم قبول اسلام کی صورت میں سب کو تہ تیغ الْإِسْلام۔ ( ۱۹ مواهب الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۰۳٬۳۰۲) کریں گے۔ (ترجمہ از مرتب) یہ بات نہایت صاف اور سریع الفہم ہے کہ وہ کتاب جو حقیقت میں کتاب الہی ہے وہ انسانوں کی طبیعتوں پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالتی اور ایسے امور مخالف عقل پیش نہیں کرتی جن کا قبول کرنا اکراہ اور جبر میں داخل ہو کیونکہ کوئی عقل صحیح تجویز نہیں کر سکتی جو دین میں اِکراہ اور جبر جائز ہو اسی واسطے اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں فرمایا : لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (نور القرآن اول، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۱، ۳۳۲) یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ تحقیق ! ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہو گیا ہے پھر جبر کی کیا حاجت ہے؟ تعجب! کہ باوجود یکہ قرآن شریف میں اس قدر تصریح سے بیان فرمایا ہے کہ دین کے بارے میں جبر نہیں کرنا چاہئے پھر بھی جن کے دل بغض اور دشمنی سے سیاہ ہو رہے ہیں ناحق خدا کے کلام پر جبر کا الزام دیتے ہیں۔ - چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۲ ، ۲۳۳) میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے : لا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کون سے سامان تھے؟ اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں اُن کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیڑوں بکریوں کی طرح سر کٹا دیں اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کر دیں اور خدا کی توحید کے پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اُٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں اور پھر ہر یک قسم کی صعوبت اُٹھا کر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض