تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 427
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ سورة البقرة جو شخص مجھ سے سچی بیعت کرتا ہے اور سچے دل سے میرا پیر و بنتا ہے اور میری اطاعت میں محو ہو کر اپنے تمام ارادوں کو چھوڑتا ہے وہی ہے جو ان آفتوں کے دنوں میں میری روح اُس کی شفاعت کرے گی ۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴، ۱۵) وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِیمُ یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی گنہ تک پہنچ نہیں سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں ۔ یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلا نا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۱۸ حاشیه ) وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وہ نہایت بزرگ اور صاحب عظمت ہے۔ (ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۲۲۱) لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ * قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا ۖ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی یہ دین کوئی بات جبر سے منوانا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک بات کے دلائل پیش کرتا ہے۔ سے ہر اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۳) پس نواب صدیق حسن خان کا یہ خیال صحیح نہیں تھا کہ مہدی کے زمانہ میں جبر کر کے لوگوں کو مسلمان کیا جائے گا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : لا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں ہے ہاں ! عیسائی لوگ ایک زمانہ میں جبراً لوگوں کو عیسائی بناتے تھے مگر اسلام جب سے ظاہر ہوا وہ جبر کے مخالف ہے۔ جبران لوگوں کا کام ہے جن کے پاس آسمانی نشان نہیں مگر اسلام تو آسمانی نشانوں کا سمندر ہے۔ کسی نبی سے اس قدر معجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات اُن کے مرنے کے ساتھ ہی مر گئے مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اب تک ظہور میں آ رہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں ۔ مگر کہاں ہیں وہ پادری یا یہودی یا اور قو میں جو ان نشانوں کے مقابل پر نشان دکھلا سکتے