تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 419

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۹ سورة البقرة ضروری ہے کہ دُعا کو قبول ہونے کے لائق بنایا جاوے کیونکہ اگر وہ دُعا خدا تعالیٰ کی شرائط کے نیچے نہیں ہے تو پھر اس کو خواہ سارے نبی بھی مل کر کریں تو قبول نہ ہوگی اور کوئی فائدہ اور نتیجہ اس پر مترتب نہیں ہو سکے گا۔ اب یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما یا : صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَ لَهُمُ (التوبة: ۱۰۳) تیری صلوٰۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش و جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے دوسری طرف فَلْيَسْتَجِيبُوا لي (البقرۃ: ۱۸۷) کا بھی حکم فرمایا ۔ ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دُعا کرنے اور کرانے والے کے کے تعلقات، پھر ان تعلقات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں اُن کا بھی پتہ لگتا ہے کیونکہ صرف اسی بات پر منحصر نہیں کر دیا کہ آنحضرت کی شفاعت اور دُعا ہی کافی ہے اور خود کچھ نہ کیا جاوے۔ اور نہ یہی فلاح کا باعث ہو سکتا ہے کہ آنحضرت کی شفاعت اور دُعا کی ضرورت ہی نہ سمجھی جاوے۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲، ۳) دُعا اسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلاح کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے سچے تعلق کو قائم کرتا ہے۔ پیغمبر کسی کے لئے اگر شفاعت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفاعت کی گئی ہے اپنی اصلاح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفاعت اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷ ) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک ذکر کیا ہے کہ ایک دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی ، وہ گرنے والی تھی اُس کے نیچے خزانہ تھا لڑ کے ابھی نابالغ تھے۔ اُس دیوار کے گرنے سے اندیشہ تھا کہ خزانہ ننگا ہو کر لوگوں کے ہاتھ آجائے گا۔ وہ لڑ کے بیچارے خالی ہاتھ رہ جاویں گے تو اللہ تعالیٰ نے دونبیوں کو اس خدمت کے واسطے مقرر فرمایا۔ وہ گئے اور اس دیوار کو درست کر دیا کہ جب وہ بڑے ہوں تو پھر کسی طرح اُن کے ہاتھ وہ خزانہ آجاوے۔ پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ: وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا (الكهف : ۸۳) یعنی ان لڑکوں کا باپ نیک مرد تھا جس کے واسطہ ہم نے اُن کے خزانہ کی حفاظت کی ۔ اللہ تعالیٰ کے ایسا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ اچھے نہ تھے اور نہ اچھے ہونے والے تھے۔ ورنہ یہ فرماتا کہ یہ لڑکے اچھے ہیں صالح ہیں اور صالح ہونے والے ہیں ۔ نہیں بلکہ اُن کے باپ کا ہی حوالہ دیا کہ اُن کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے دیکھو یہی تو شفاعت ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵) مذہبی مسائل میں سے نجات اور شفاعت کا مسئلہ ایک ایسا عظیم الشان اور مدارالمہام مسئلہ ہے کہ مذہبی