تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 414

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة البقرة سے سہارا طلب کیا جاوے اس کو ايَّاكَ نَسْتَعِین کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔ حی کا لفظ عبادت کو اس لئے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا اور پھر پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا جیسے مثلاً معمار جس نے عمارت کو بنایا ہے اس کے مرجانے سے عمارت کا کوئی حرج نہیں ہے مگر انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے اس لئے ضروری ہوا کہ خدا سے طاقت طلب کرتے رہیں اور یہی استغفار ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۰ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵) اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ ۔۔۔۔۔ وہی ایک سب کا رب ہے۔ (ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۳) ( مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ( مشرک لوگ بھی اپنے معبودوں سے عبث طور پر مدد طلب کرتے ہیں جس پر کوئی فائدہ مترتب نہیں ہو سکتا۔ گو کوئی مقرب الہی ہو، مگر کسی کی مجال نہیں کہ خواہ نخواہ سفارش کر کے کسی مجرم کو رہا کرادے۔ خدا کا علم ان کے پیش و پس پر محیط ہو رہا ہے اور ان کو خدا کے علوم سے صرف اسی قدر اطلاع ہوتی ہے جن باتوں پر وہ آپ مطلع کرے اس سے زیادہ نہیں۔ براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) خدا کے اذن کے سوا کوئی شفاعت نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف کی رُو سے شفاعت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کے لئے دُعا کرے کہ وہ مطلب اس کو حاصل ہو جائے یا کوئی بلا ٹل جائے۔ پس قرآن شریف کا حکم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کے حضور میں زیادہ جھکا ہوا ہے وہ اپنے کمزور بھائی کے لئے دُعا کرے کہ اس کو وہ مرتبہ حاصل ہو یہی حقیقت شفاعت ہے۔ سو ہم اپنے بھائیوں کے لئے بیشک دُعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو قوت دے اور ان کی بلا ڈور کرے اور یہ ایک ہمدردی کی قسم ہے۔ پس اگر وید نے وید نے اس ہمدردی کو نہیں سکھلایا اور وید کی رُو سے ایک بھائی دوسرے کے لئے دُعا نہیں کر سکتا تو یہ بات وید کے لئے قابل تعریف نہیں بلکہ ایک سخت عیب ہے۔ چونکہ تمام انسان ایک جسم کی طرح ہیں اس لئے خدا نے ہمیں بار بار سکھلایا ہے کہ اگر چہ شفاعت کو قبول کرنا اس کا کام ہے مگر تم اپنے بھائیوں کی شفاعت میں یعنی ان کے لئے دُعا کرنے میں لگے رہو اور شفاعت سے یعنی ہمدردی کی دُعا سے باز نہ رہو کہ تمہارا ایک دوسرے پر حق ہے۔ فظ شفع سے لیا گیا ہے۔ شفع : جفت کو کہتے ہیں جو طاق کی ضد ہے۔ پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا جفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے جیسا کہ اپنے نفس کے لئے ۔ اور یاد رہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہو سکتا اصل میں شفاعت کا لفظ