تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 406

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔ سورة البقرة ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ۔ یعنی بعض نبیوں کو بعض نبیوں پر فضیلت ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الہام محض فضل ہے اور فضیلت کے وجود میں اس کو دخل نہیں بلکہ فضیلت اس صدق اور اخلاص اور وفاداری کی قدر پر ہے جس کو خدا جانتا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۳۹) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت انسانی فطرت کے انتہا تک پہنچی ہوئی ہے اس لئے قرآن شریف کامل نازل ہوا۔ اور یہ کچھ برا ماننے کی بات نہیں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے : فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ کہ یعنی بعض نبیوں کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔ اور ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں، اخلاق میں، عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔ پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہر گز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۶) اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ (۲۵۶) كرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ اللہ جو جامع صفات کاملہ اور مستحق عبادت ہے اس کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ حتی بالذات اور قائم بالذات ہے بجز اس کے کوئی چیز حتی بالذات اور قائم بالذات نہیں یعنی اس کے بغیر کسی چیز میں یہ صفت پائی نہیں جاتی کہ بغیر کسی علت موجدہ کے آپ ہی موجود اور قائم رہ سکے یا کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم اور موزون سے بنایا گیا ہے علت موجبہ ہو سکے اور یہ امر اس صانع عالم جامع صفات کاملہ کی ہستی کو ثابت کرنے والا ہے۔ تفصیل اس استدلال لطیف کی یہ ہے کہ یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ عالم کے اشیاء میں سے ہر یک موجود جو نظر آتا ہے اس کا وجود اور قیام نظراً علی ذاتہ ضروری نہیں مثلاً زمین کروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے مگر اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کہ کیوں یہی شکل اور یہی مقدار اس کے لئے ضروری ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم ہو یا بر خلاف شکل حاصل کے کسی اور شکل سے متشکل ہوا اور جب اس پر کوئی دلیل قائم نہ ہوئی تو یہ