تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔۔ سورة البقرة وَ إِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوا الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَ أَنْ تَعْفُوا اقْرَبُ لِلتَّقْوى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لئے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لئے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کے دینے کی ۔ میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمتی ۱۹۰۳ صفحه (۱۲۳) سوال ہوا کہ جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے؟ فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہئے خاوند کی حیثیت کو مد نظر رکھنا چاہئے ۔ اگر اس کی حیثیت • روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ کا مہر کیسے ادا کرے گا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مہر ہی نہیں یہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں داخل ہے۔ (البدر جلد نمبر ۱ مورخہ ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحہ ۱۶) سوال ہوا کہ ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی ۔ فرمایا : یہ عورت کا حق ہے اُسے دینا چاہئے اول تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئے پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر خاوند کو بخش دیتی ہیں یہ صرف رواج ہے جو مروّت پر دلالت کرتا ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶) مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُطْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصِطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ) اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ ! اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج