تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 398

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ سورة البقرة درست نہیں ہوگا اور زنا کے حکم میں ہوگا۔ لہذا ایسا شخص جو اسلام پر حلالہ کی تہمت لگانا چاہتا ہے اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ مذہب نہیں ہے اور قرآن اور صحیح بخاری اور مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کی رو سے حلالہ قطعی حرام ہے اور مرتکب اس کا زانی کی طرح مستوجب سزا ہے۔ (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۶۶، ۶۷) رآن شریف میں یہ شرط جو ہے کہ اگر تین طلاق تین طہر میں جو تین مہینہ ہوتے ہیں دی جائیں تو پھر ایسی عورت خاوند سے بالکل جدا ہو جاوے گی اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا خاوند اس کا ، اس کو طلاق دے دے تو صرف اسی صورت میں پہلے خاوند کے نکاح میں آ سکتی ہے ورنہ نہیں یہ شرط طلاق سے روکنے کے لئے ہے تا ہر یک شخص طلاق دینے میں دلیری نہ کرے اور وہی شخص طلاق دے جس کو کوئی ایسی مصیبت پیش آگئی ہے جس سے وہ ہمیشہ کی جدائی پر راضی ہو گیا اور تین مہینے بھی اس لئے رکھے گئے تا اگر کوئی مثلاً غصہ سے طلاق دینا چاہتا ہو تو اس کا غصہ اتر جائے۔ (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۶۷ حاشیه ) وَ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفِ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَ مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْتِ اللهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَ مَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمُ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ عورتوں کو دکھ دینے کی غرض سے بند مت رکھو۔ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) اگر تم طلاق دو تو عورتوں کو احسان کے ساتھ رخصت کرو۔ (شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) وَ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ط جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ مدت مقررہ تک پہنچ جائیں اور عدت کی میعاد گذر جائے تو ان کو نکاح کرنے سے مت روکو یعنی جب تین حیض کے بعد تین طلاقیں ہو چکیں عدت بھی گزر گئی تو اب وہ عورتیں