تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 392
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ سورة البقرة رکھنا ایسی سختی ہے جس میں طلاق سے زیادہ بے رحمی ہے۔ طلاق ایک مصیبت ہے جو ایک بدتر مصیبت کے عوض اختیار کی جاتی ہے، تمام معاہدے بد عہدی سے ٹوٹ جاتے ہیں پھر اس پر کون سی معقول دلیل ہے کہ نکاح کا معاہدہ ٹوٹ نہیں سکتا ؟ اور کیا وجہ کہ نکاح کی نوعیت تمام معاہدوں سے مختلف ہے؟ عیسی نے زنا کی شرط سے طلاق کی اجازت دی مگر آخراجازت تو دے دی۔ نکاح ملاپ کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ ہم دائمی تردد اور نزاع کے باعث سے پریشان خاطر رہیں۔ (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۳، ۵۴ حاشیه ) عورت کا جوڑا اپنے خاوند سے پاکدامنی اور فرماں برداری اور باہم رضامندی پر موقوف ہے اور اگر ان تین باتوں میں سے کسی ایک بات میں بھی فرق آ جاوے تو پھر یہ جوڑ قائم رہنا محالات میں سے ہو جاتا ہے انسان کی بیوی اس کے اعضاء کی طرح ہے۔ پس اگر کوئی عضو سر گل جائے یا ہڈی ایسی ٹوٹ جائے کہ قابل پیوند نہ ہو تو پھر بجز کاٹنے کے اور کیا علاج ہے اپنے عضو کو اپنے ہاتھ سے کاٹنا کوئی نہیں چاہتا کوئی بڑی ہی مصیبت پڑتی ہے تب کاٹا جاتا ہے۔ پس جس حکیم مطلق نے انسان کے مصالح کے لئے نکاح تجویز کیا ہے اور چاہا ہے کہ مرد اور عورت ایک ہو جائیں ۔ اُسی نے مفاسد ظاہر ہونے کے وقت اجازت دی ہے کہ اگر آرام اس میں منتصور ہو کہ کرم خوردہ دانت یا سڑے ہوئے عضو یا ٹوٹی ہوئی ہڈی کی طرح موذی کو علیحدہ کر دیا جائے تو اسی طرح کار بند ہو کر اپنے تئیں فوق الطاقت آفت سے بچالیں کیونکہ جس جوڑ سے وہ فوائد مترتب نہیں ہو سکتے کہ جو اس جوڑ کی عِلتِ غائی ہیں بلکہ ان کی ضد پیدا ہوتی ہے تو وہ جوڑ در حقیقت جوڑ نہیں ہے۔ (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۶۵ ، ۶۶ ) خدا تعالیٰ نے جو ضرورتوں کے وقت میں مرد کو طلاق دینے کی اجازت دی اور کھول کر یہ نہ کہا کہ عورت کی زنا کاری سے یا کسی اور بدمعاشی کے وقت اس کو طلاق دی جاوے اس میں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ستاری نے چاہا کہ عورت کی تشہیر نہ ہو۔ اگر طلاق کے لئے زنا وغیرہ جرائم کا اعلان کیا جاتا تو لوگ سمجھتے کہ اس عورت پر کسی بدکاری کا شبہ ہے یا فلاں فلاں بدکاری کی قسموں میں سے ضرور اس نے کوئی بدکاری کی ہو گی مگر اب یہ راز خاوند تک محدود رہتا ہے۔ (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۶۵ حاشیه ) دنیا میں کوئی فرقہ نہیں جو طلاق کا مخالف ہو، کسی نہ کسی ضرورت سے بعض وقت طلاق دینی پڑتی ہے۔ ۔۔۔۔۔ یہ رسم کسی مذہب میں نہیں ؟ جب مرد و عورت میں سخت مخالفت ہو گی تو بجزر طلاق اور کیا چارہ ہوگا۔ ( سناتن دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۷۱،۴۷۰)