تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 388
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۸ سورة البقرة مہینے انتظار کریں۔ سوا گر وہ اس عرصہ میں اپنے ارادہ سے باز آجاویں پس خدا کو غفور و رحیم پائیں گے۔ وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه (۵۲) اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کر لیں سو یا د رکھیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بددعا کرے تو خدا اس کی بددعا سن لے گا۔ آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۲) وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ بُعُولَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۖ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) (۲۲۹) آریہ لوگ جب اُس اعتراض کے وقت جو نیوگ پر وارد ہوتا ہے بالکل لاجواب اور عاجز ہو جاتے ہیں تو پھر انصاف اور خدا ترسی کی قوت سے کام نہیں لیتے بلکہ اسلام کے مقابل پر نہایت مکروہ اور بے جا افتراؤں پر آجاتے ہیں۔ چنانچہ بعض تو مسئلہ طلاق کو ہی پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر ایسی آفات ہر یک قوم کے لئے ہمیشہ ممکن الظہور ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں ۔ مثلاً اگر کوئی عورت زانیہ ہو تو کس طرح اس کے خاوند کی غیرت اس کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر دن رات زنا کاری کی حالت میں مشغول رہے۔ ایسا ہی اگر کسی کی جو رو اس قدر دشمنی میں ترقی کرے کہ اس کی جان کی دشمن ہو جاوے اور اس کے مارنے کی فکر میں لگی رہے تو کیا وہ ایسی عورت سے امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے۔ بلکہ ایک غیرت مند انسان جب اپنی عورت میں اس قدر خرابی بھی دیکھے کہ اجنبی شہوت پرست اس کو پکڑتے ہیں اور اس کا بوسہ لیتے ہیں اور اس سے ہم بغل ہوتے ہیں اور وہ خوشی سے یہ سب کام کراتی ہے تو گو تحقیق کے رو سے ابھی زنا تک نوبت نہ پہنچی ہو بلکہ وہ فاسقہ موقع کے انتظار میں ہو۔ تاہم کوئی غیرت مند ایسی نا پاک خیال عورت سے نکاح کا تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ اگر آریہ کہیں کہ کیا حرج ہے۔ کچھ مضائقہ نہیں تو ہم ان سے بحث کرنا نہیں چاہتے ہمارے مخاطب صرف وہ شریف ہیں جن کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے