تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 378
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ سورة البقرة يَقُولَ الرَّسُولُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ إِلَّا إِنَّ 66 نَصْرُ اللَّهِ إِلَّا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبُ - نَصَرَ اللهِ قَرِيبٌ - * پس اسی طرح اس زمانے کے لوگ فَكَذلِكَ يُرِيدُ أَبْنَاءُ هَذَا الزَّمَانِ چاہتے ہیں کہ مجھے قتل کریں یا مجھے صلیب دیں یا مجھے کسی لِيَقْتُلُونِي أَوْ يُصَلِّبُونِي أَوْ يَطْرَحُونِي فِي اندھے کنویں میں ڈال دیں یا صداقت کو اپنے پاؤں تلے غَيَابَةِ جُبِّ، وَيَدُوسُوا الصَّدَاقَةَ روند دیں۔ اور سر سبز درختوں کو اُسی طرح جلا دیں جیسے خشک بأَرْجُلِهِمْ، وَيُحَرِّقُوا الْأَشْجَارَ الْخَضِرَةَ گھاس کو جلا دیا جاتا ہے۔ پس اللہ کی ذات ہی ہے جس سے كَمَا يُحْرَقُ الْحَشَائِشُ الْيَابِسَةُ، فَاللهُ اُن کے مکروہ منصوبوں کے خلاف مدد حاصل کی جاسکتی الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا يَكِيدُونَ وَهُوَ خَيْرُ ہے اور وہی بہتر مدد کرنے والا ہے۔ البتہ اُس کی وہ مدد جس کا النَّاصِرِينَ وَأَمَّا نَصْرَهُ الَّذِي يُنْكِرُونَه وہ انکار کرتے ہیں تو وہ ایک ایسی چیز ہے کہ عنقریب تو وہ کچھ فَشَيْءٌ سَتَرَى مَا لَا تَسْمَعُ، بَلْ ظَهَرَت دیکھے گا جسے تو سنتا نہیں بلکہ اُس کی علامات دیکھنے والوں کی عَلَامَاتُهُ فِي أَعْيُنِ النَّاظِرِينَ نگاہوں میں ظاہر ہوگئی ہیں ۔ أَلَا تَرَى أَنَّ الزَّمَانَ كَيْفَ انْقَلَبَ کیا تو نہیں دیکھتا کہ زمانہ کیسے توحید کی طرف پلٹ گیا إِلَى التَّوْحِيدِ ، وَكَيْفَ هَبْتُ رِيَاحُ ہے اور کس طرح اسلام کی ہوائیں مشرکوں کے ملکوں میں الْإِسْلَامِ فِي بِلَادِ الْمُشْرِكِيْنَ وَكَيْفَ چل پڑی ہیں اور کس طرح لوگ اللہ کے دین میں ہر ملک يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فِي كُلِّ سے فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں؟ پس یہ وہی نور ہے مُلْكِ فَمَا هَذَا إِلَّا النُّورُ الَّذِي نَزَلَ مِنَ جو آسمان سے اُس شخص کے ساتھ نازل ہوا جو لوگوں کی السَّمَاءِ مَعَ الَّذِي أُنْزِلَ لإصلاح اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا۔ اس سے واضح تر دلیل اور النَّاسِ، فَأَيُّ دَلِيْلٍ وَاضِحٌ مِنْ هَذَا إِنْ کون سی ہو سکتی ہے۔ اگر تو انصاف کرنے والوں میں سے كُنْتَ مِنَ الْمُنْصِفِيْنَ يَا مِسْكِينَ ثُمَّ ہے۔ اے سادہ لوح ! اُٹھ ! اور آنکھ کھول تا کہ تو دیکھے کہ وَافْتَحِ الْعَيْنَ لِتَنْظُرَ كَيْفَ يُكْسَر صلیب کس طرح توڑی جارہی ہے اور آسمانی حربہ سے سور الصَّلِيبُ وَيُقْتَلُ الْخِنْزِيرُ بِحَرْبَةِ قتل کئے جارہے ہیں؟ جہاں تک لوگوں کو اس دنیا کے ** کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسے حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں انہیں سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا کر رکھ دیئے گئے یہاں تک کہ رسول اور وہ جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ۔ (البقرۃ: ۲۱۵)