تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 373

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۳ سورة البقرة روح ہے جو بیان کی گئی ۔ جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۲۱) بعض ایسے ہیں کہ اپنے نفسوں کو خدا کی راہ میں بیچ دیتے ہیں۔ تاکسی طرح وہ راضی ہو۔ پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۷۳) بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضاء الہی کے عوض میں بیچ دیتے ہیں اور خدا ایسوں ہی پر مہربان ہے۔ ( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۴۰) اللہ تعالیٰ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اُن کے ساتھ وہ رافت اور محبت کرتا ہے چنانچہ خود فرماتا ہے: وَاللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے، اللہ تعالیٰ کی ہی راہ میں وقف کر دیتے ہیں۔ اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا، اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں ۔ مگر جو لوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں مگر حقیقی مومن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔ سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مَا دَامَ الْحَيَاتُ وقف کر دے۔ تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ ء صفحه ۳) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ اے ایمان والو! خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیا ر مت کرو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۴۱۶) هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (۲۱۱) یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔ کفر اور شرک نے بہت غلبہ کیا اور وہ خاموش رہا اور ایک مخفی خزانہ کی طرح ہو گیا۔ اب چونکہ شرک اور انسان پرستی کا غلبہ کمال تک پہنچ گیا اور اسلام اس کے پاؤں کے نیچے کچلا گیا اس لئے خدا فرماتا ہے کہ میں زمین پر نازل ہوں گا اور وہ قہری نشان دکھلاؤں گا کہ جب سے نسلِ آدم پیدا ہوئی ہے کبھی نہیں