تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 366
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۶ سورة البقرة فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یا د رکھنا چاہیئے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غائت درجہ شدت واقع ہو جاتی ہے اور حُبّ جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے، دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خُو اور بُو بصفائی نام اس میں پائی جاتی ہے علیٰ ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے۔ سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۵۹، ۲۶۰ حاشیه ) اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو کہ جیسے تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو اور ظاہر ہے کہ اگر مجازی طور پر ان الفاظ کا بولنا منہیات شرع شرع سے ہوتا تو خدا تعالیٰ ایسی طرز سے اپنی کلام کو منزہ رکھتا جس سے اس اطلاق کا جواز مستنبط ہو سکتا (آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵) ہے۔ ایک دفعہ مجھے خدا نے مخاطب کر کے فرمایا: أَنْتَ مِنِى بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِي أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةٍ لَّا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ ۔ یعنی تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے اور تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جس کو دنیا نہیں جانتی تب مولویوں نے اپنے کپڑے پھاڑے کہ اب کفر میں کیا شک رہا اور اس آیت کو بھول گئے : فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُم - چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۶ حاشیه ) فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا یعنی خدا کو ایسا یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور سخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۷) تم خدا کو ایسا یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۶)