تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 363
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ سورة البقرة تفریط یعنی بے محل استعمال نافرمانی ہوتا ہے، تو خدا کا لطف و کرم مانگنا کہ تو رحم کر اور ان کے استعمال کی افراط تفریط سے محفوظ رکھ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے امداد طلب کرنی ہے۔ مسیح بھی خدا کی مدد کے محتاج تھے اگر کوئی اس طرح نہیں سمجھتا تو وہ مسلمان نہیں ۔۔۔۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کے متعلق فرمایا ) اس سے مراد تو ترقی مراتب ہے۔ البدر جلد ا نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه (۱۳) اگر استغفار کے لئے معنے ہیں کہ گذشتہ گناہوں سے معافی ہو، تو پھر بتلاویں کہ آئندہ گناہوں سے محفوظ رہنے کے لئے کونسا لفظ ہے؟ گناہ سے الفظ ہے؟ گناہ سے حفاظت یعنی عصمت تو انسان کو استغفار سے ملتی ہے کہ انسان خدا سے چاہے کہ اُن قوی کا ظہور اور بروز ہی نہ ہو جو معاصی کی طرف کھینچتے ہیں کیونکہ جیسے انسان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ گذشتہ گناہ اس کے بخشے جاویں اسی طرح اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ آئندہ اس کے قومی سے گناہ کا ظہور و بروز نہ ہو۔ یہ مسئلہ بھی قابلِ دُعا کے ہے ورنہ یہ کیا بات ہے کہ جب گناہ میں مبتلا ہو تو اُس وقت تو دُعا کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رہنے کی دُعا نہ کرے اگر انجیل میں یہ دُعا نہیں ہے تو پھر وہ کتاب ناقص ہے۔ انجیل میں لکھا ہے مانگو تو دیا جاوے گا پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار مانگا آپ کو دیا گیا ، مسیح نے نہ مانگا ان کو نہ دیا گیا۔ غرضیکہ طبعی تقسیم قرآن نے کی ہے کہ گناہ سے حفاظت کے ہر ایک پہلو کود یکھ کر استغفار کا لفظ رکھا ہے کیونکہ انسان دونو راہ کا محتاج ہے کبھی گناہ کی معافی کا کبھی اس امر کا کہ وہ قوائے ظہور و بروز نہ کریں ورنہ یہ کب ممکن ہے کہ قوائے خدا کی حفاظت کے بغیر خود بچے رہیں ۔ وہ کتاب کامل ہے جس نے دونوں قسم کی تعلیم بتلائی اور عقل اور ضرورت خود دونوں قسم کی دُعا کا تقاضا کرتی ہے۔ البدر جلد اول نمبرے مؤرخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۳) جو شخص دعوئی سے کہتا ہے کہ میں گناہ سے بچتا ہوں وہ جھوٹا ہے۔ جہاں شیرینی ہوتی ہے وہاں چیونٹیاں ضرور آتی ہیں اسی طرح نفس کے تقاضا ہائے تو ساتھ لگے ہی ہیں ان سے نجات کیا ہو سکتی ہے؟ خدا کے فضل اور رحمت کا ہاتھ نہ ہو تو انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا نہ کوئی نبی ، نہ ولی اور نہ ان کے لئے یہ فخر کا مقام ہے کہ ہم سے گناہ صادر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ خدا کا فضل ما نگتے تھے۔ اور نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ ان پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہرگز معصوم اور محفوظ نہیں ہو سکتا اللَّهُمَّ بَاعِدُ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَائ۔ اور دوسری دُعائیں بھی استغفار کے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔