تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 352

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام محسنین کو دوست رکھتا ہے۔ ۳۵۲ سورة البقرة ( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) یعنی خودکشی نہ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے باعث نہ ٹھہرو اور یہ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً خالد کے پیٹ میں درد ہو اور زید اس پر رحم کر کے اپنا سر پھوڑے تو زید نے خالد کے حق میں کوئی نیکی کا کام نہیں کیا بلکہ اپنے سر لوا سر کو احمقانہ حرکت سے ناحق پھوڑا۔ نیکی کا کام تب ہوتا کہ جب زید خالد کی خدمت میں مناسب اور مفید طریق کے ساتھ سرگرم رہتا اور اس کے لئے عمدہ دوائیں میسر کرتا اور طبابت کے قواعد کے موافق اس کا علاج کرتا۔ مگر اس کے سر کے پھوڑنے سے زید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ ناحق اس نے اپنے وجود کے ایک شریف عضو کو دکھ پہنچایا ۔ قوم کی راہ میں جان دینے کا حکیمانہ طریق یہی ہے کہ قوم کی بھلائی کے لئے قانون قدرت کی مفید راہوں کے موافق اپنی جان پر سختی اٹھاویں اور مناسب تدبیروں کے بجالانے سے اپنی جان ان پر فدا کر دیں نہ یہ کہ قوم کو سخت بلا یا گمراہی میں دیکھ کر اور خطر ناک حالت میں پا کر اپنے سر پر پتھر مار لیں یا دو تین رتی اسٹرکنیا کھا کر اس جہان سے رخصت ہو جائیں اور پھر گمان کریں کہ ہم نے اپنی اس حرکت بیجا سے قوم قوم کو نجات دے دی ہے۔ یہ مردوں کا کام نہیں ہے، زنانہ خصلتیں ہیں اور بے حوصلہ لوگوں کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے کہ مصیبت کو قابل برداشت نہ پا کر جھٹ پٹ خودکشی کی طرف دوڑتے ہیں ۔ ایسی خودکشی کی ، گو بعد میں کتنی ہی تاویلیں کی جائیں مگر یہ حرکت بلا شبہ عقل اور عقلمندوں کا ننگ ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا صبر اور دشمن کا مقابلہ نہ کرنا معتبر نہیں ہے جس کو انتقام کا موقعہ ہی نہ ملا کیونکہ کیا معلوم ہے کہ اگر وہ انتقام پر قدرت پاتا تو کیا کچھ کرتا ؟ جب تک انسان پر وہ زمانہ نہ آوے جو ایک مصیبتوں کا زمانہ اور ایک مقدرت اور حکومت اور ثروت کا زمانہ ہو۔ اس وقت تک اس کے سچے اخلاق ہرگز ظاہر نہیں ہو سکتے ۔ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص صرف کمزوری اور ناداری اور بے اقتداری کی حالت میں لوگوں کی ماریں کھا تا مر جاوے اور اقتدار اور حکومت اور ثروت کا زمانہ نہ پاوے۔ اس کے اخلاق میں سے کچھ بھی ثابت نہ ہوگا۔ اور اگر کسی میدان جنگ میں حاضر نہیں ہوا تو یہ بھی ثابت نہیں ہو گا کہ وہ دل کا بہادر تھا یا بز دل ۔اس کے اخلاق کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۸ تا ۴۵۰) ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے اہل خانہ اور بچے ایک ایسے مقام میں ہیں جہاں طاعون کا زور ہے میں گھبرایا ہوا ہوں اور وہاں جانا چاہتا ہوں فرمایا: مت جاؤ ۔ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُم إِلَى التَّهْلُكَةِ پچھلی رات کو اٹھ کر اُن کے لئے دُعا کرو یہ بہتر ہوگا۔ کچلہ ۔ ناشر Strychnia *