تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 350

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۰ سورة البقرة خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس طرح اور جن آلات سے کفار لوگ تم پر حملہ کرتے ہیں انہی طریقوں اور آلات سے تم ان لوگوں کا مقابلہ کرو ۔ اب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے حملے اسلام پر تلوار سے نہیں سے ہیں لہذا ضرور ہے کہ ان کا جواب قلم سے دیا جاوے اگر تلوار سے دیا جاوے گا تو یہ اعتدا ہو گا ہیں بلکہ قلم ہم ۔ - جس سے خدا تعالیٰ کی صریح ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے : إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ۔ الحکم جلد ۹ نمبر۷ مورخہ ۲۴ رفروری ۱۹۰۵ء صفحه (۲) کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو، تین تین، چار چار کر کے ہی آئے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔ اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جاوے یا آمدنی کم ہو۔ اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ۔ لال پر بھی ایساز ورنہ مارو کہ نفس پرست ہی بن جاؤ۔ غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر انسان بیویوں ہی کا بندہ ہو جائے تو بھی غلطی کرتا ہے۔ ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس کا یہ منشاء نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کارروائیوں میں نہ ڈالو۔ الحکم جلد ۲ نمبر ۲ مورخه ۱۶ مارچ ۱۸۹۸ء صفحه (۲) وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَ اَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُمْ فِيْهِ ۚ فَإِنْ قْتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ ) یعنی قتل کروا نہیں جہاں پاؤ اور اسی طرح نکالوجس طرح انہوں نے نکالا۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) وَ قُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلَا عُدْوَانَ الا عَلَى الظَّلِمِينَ ) یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دور ہو جاوے اور دین کی روکیں اُٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے ۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) یعنی عرب کے ان مشرکوں کو قتل کرو یہاں تک کہ بغاوت باقی نہ رہ جاوے اور دین یعنی حکومت اللہ تعالیٰ