تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 344

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة البقرة تو وہ منعم علیہم کی جماعت میں داخل ہوگا۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷ ) سب سے عمدہ دُعا یہ ہے کہ خدا کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گنا ہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دور کر دے اور اپنی رضا مندی کی راہ دکھلائے ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۴ ء صفحه (۶) میں سمجھتا ہوں کہ دُعا سے آخری فتح ہوگی اور انبیاء علیہم السلام کا یہی طرز رہا ہے کہ جب دلائل اور حج کام نہیں دیتے تو اُن کا آخری حربہ دعا ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا : وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ (ابراهيم : ١٦ ) ۔۔۔۔۔ میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ کسر صلیب جانکاہ دُعاؤں پر موقوف ہے دُعا میں ایسی قوت ہے کہ جیسے آسمان صاف ہو اور لوگ تضرع اور ابتہال کے ساتھ دعا کریں تو آسمان پر بدلیاں سی نمودار ہو جاتی ہیں اور بارش ہونے لگتی ہے اسی طرح پر میں خوب جانتا ہوں کہ دُعا اس باطل کو ہلاک کر دے گی۔ اور لوگوں کو تو کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ دین کے لئے دُعا کریں مگر میرے نزدیک بڑا چارہ دُعا ہی ہے اور یہ بڑا خطرناک جنگ ہے جس میں جان جانے کا بھی خطرہ ہے ونعم ما قیل : اندریں وقتِ مصیبت چارہ ہائے بیکساں جو دعای بامداد و گریه اسحار نیست پھر ان دعاؤں کے لئے گوشہ نشینی کی بڑی ضرورت ہے ۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ صفحہ ۵) فَاعْلَمُوا أَنَّ الدُّعَاءَ حَرْبَةٌ أُعْطِيتُ خوب یا درکھیں کہ دُعا وہ ہتھیار ہے، جو اس زمانہ کی فتح مِنَ السَّمَاءِ لِفَتْحِ هَذَا الزَّمَانِ، وَلَنْ کے لئے مجھے آسمان سے دیا گیا ہے۔ اور اے میرے تَغْلِبُوا إِلَّا بِهَذِهِ الْحَرْبَةِ يَا مَعْشَرَ دوستوں کی جماعت ! تم صرف اسی حربہ سے غالب آ سکتے ہو۔ الْخُلَانِ، وَقَدْ أَخْبَرَ النَّبِيُّونَ مِنْ أَوَّلِهِمْ تمام نبیوں نے اوّل سے آخر تک اس ہتھیار کی خبر دی ہے۔ إِلَى آخِرِهِمْ بِهَذِهِ الْحَرْبَةِ، وَقَالُوا إِنَّ اور سب نے فرمایا کہ مسیح موعود دعا اور بارگاہ رب العزت الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ يَنَالُ الْفَتْحَ بِالدُّعَاءِ میں تضرعات کے ذریعہ سے ہی فتح حاصل کرے گا، جنگوں وَ التَّضَرُّعِ فِي الْحَضْرَةِ ، لَا بِالْمَلَاحِیمِ وَ اور لوگوں کے خون بہانے سے نہیں۔ دُعا کی حقیقت یہ سَفْكِ دِمَاءِ الْأُمَّةِ إِنَّ حَقِيقَةً ہے کہ انسان ساری ہمت ، پورے صدق اور کامل صبر الدُّعَاءِ الْإِقْبَالُ عَلَى اللهِ بِجَمِيعِ الْهِمَّةِ کے ساتھ مصیبت کے دور کروانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی