تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 333

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۳ سورة البقرة دعا ایک ایسی سرور بخش کیفیت ہے کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذت اور سرور کو دنیا کو سمجھاؤں یہ تو محسوس کرنے ہی سے پتہ لگے گا۔ مختصر یہ کہ دُعا کے لوازمات سے اوّل ضروری یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ اور اعتقاد پیدا کریں کیونکہ جو شخص اپنے اعتقادات کو درست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا اور دُعا کرتا ہے وہ گو یا خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۲،۱) دُعا کے لئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دُعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہچانے ۔ اتباع سنت ضروری ہے مگر تلاش رفت بھی اتباع سنت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو دعا کرو تا کہ دُعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے، حقیقت پرست بنا چاہئے ۔ مسنون دعاؤں کو بھی برکت کے لئے پڑھنا چاہئے مگر حقیقت کو پاؤ۔ ہاں جس کو زبان عربی سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۹) ۔ دُعا کے لئے اصول ہیں۔ میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی اپنی منواتا ہے اور کبھی مومن کی مانتا ہے اس کے سوا چونکہ ہم تو علیم نہیں اور نہ اپنی ضرورتوں کے نتائج سے آگاہ ہیں ۔ اس لئے بعض وقت ایسی چیزیں مانگ لیتے ہیں جو ہمارے لئے مضر ہوتی ہیں ۔ پس وہ دُعا تو قبول کر لیتا ہے اور جو دُعا کرنے والے کے واسطے مفید ہوتا ہے وہ اُسے عطا کرتا ہے جیسے ایک زمیندار کسی بادشاہ سے ایک اعلیٰ درجہ کا گھوڑ امانگے اور بادشاہ اس کی ضرورت کو سمجھ کر اُسے عمدہ بیل دے دے۔ تو اس کے لئے وہی مناسب ہو سکتا ہے۔ دیکھو ماں بھی تو بچے کی ہر خواہش کو پورا نہیں کرتی اگر وہ سانپ یا آگ کو لینا چاہے تو کب دیتی ہے پس خدا تعالیٰ ماسے سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے اور تقویٰ اور ایمان میں ترقی کرنی چاہئے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) وہی دُعا مفید ہوتی ہے جب کہ دل خدا کے آگے پگھل جاوے اور خدا کے سوا کوئی مفر نظر نہ آوے جو خدا کی طرف بھاگتا ہے اور اضطرار کے ساتھ امن کا جو یاں ہوتا ہے وہ آخر بچ جاتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۶) تم ایسے ہو جاؤ کہ نہ مخلوق کا حق تم پر باقی رہے نہ خدا کا ۔ یا د رکھو جو مخلوق کا حق دباتا ہے اس کی دُعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ ظالم ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۲ ء صفحه ۴) اللہ کا رحم ہے اس شخص پر جو امن کی حالت میں اسی طرح ڈرتا ہے جس طرح کسی پر مصیبت وارد ہوتی ہو تو وہ