تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 331
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۱ سورة البقرة خدائے تعالیٰ کو خوش کرے تو ایسی صورت میں دُعا کے لئے باب استجابت کھولا جاتا ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۲) یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دُعا نہیں کرتا بلکہ خدائے تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ اس لئے دُعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے، اور یہی معنی اس دُعا (اهدنا الصراط المستقيم الخ) کے ہیں پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد، اعمال میں نظر کرے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔ وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں جو کہتے ہیں کہ جب دُعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔ وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۵) بعض لوگ دُعا کی درخواست کرتے ہیں کہ میرے لئے دُعا کرو مگر افسوس ہے کہ وہ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔ جب تک دعا کرانے والا اپنے اندر ایک صلاحیت اور اتباع کی عادت نہ ڈالے دُعا کارگر نہیں ہو سکتی ۔ مریض اگر طبیب کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا ممکن نہیں کہ فائدہ اُٹھا سکے۔ جیسے مریض کو ضروری ہے کہ استقامت اور استقلال کے ساتھ طبیب کی رائے پر چلے تو فائدہ اُٹھائے گا۔ ایسے ہی دعا کرانے والے کے لئے آداب اور طریق ہیں ۔ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دُعا کی خواہش کی۔ بزرگ نے فرمایا کہ دودھ چاول لاؤ۔ وہ شخص حیران ہوا، آخر وہ لایا۔ بزرگ نے دُعا کی اور اُس شخص کا کام ہو گیا۔ آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کرنے کے لئے تھا ایسا ہی با وافرید صاحب۔ کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص کا قبالہ گم ہوا اور وہ دُعا کے لئے آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے حلوا کھلاؤ اور وہ قبالہ حلوائی کی دوکان سے مل گیا۔ ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دُعا کرنے والے اور کرانے والے میں ایک تعلق نہ ہو دعا متاثر نہیں ہوتی ۔ غرض جب تک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہو اور دُعا کرنے والے کے قلق دعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثر نہیں کرتی۔ بعض اوقات یہی مصیبت آتی ہے کہ لوگ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے اور دُعا کا کوئی بین فائدہ محسوس نہ کر کے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنی حالت کو قابل رحم بنا لیتے ہیں۔ بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دعا کرو یا دعا کراؤ۔ پاکیزگی اور طہارت پیدا کرو، استقامت چاہو اور توبہ کے