تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 326

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۶ سورة البقرة تجربہ سے کہتا ہوں خیالی بات نہیں جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو اللہ تعالیٰ دُعا کے ذریعہ اسے آسان کر دیتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ دُعا بڑی زبردست اثر والی چیز ہے۔ بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔ دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے اور وہ کیا چیز ہے جو دُعا سے حاصل نہیں ہوتی ؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے اور خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے۔ گناہ سے نجات دیتی ہے اور نیکیوں پر استقامت اس کے ذریعہ سے آتی ہے۔ بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دُعا پر ایمان ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔ 6 اللہ تعالیٰ نے شروع قرآن ہی میں دعا سکھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی عظیم الشان اور ضروری چیز ہے اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لئے دعا کی بہت بڑی ضرورت رورت ہے اس لئے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔ غرض اصلاح نفس کے لئے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لئے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دُعا کا ہے۔ اس میں جس قدر تو گل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا۔ اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے تمام مشکلات دور ہو جائیں گی ۔ اور دُعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہونچ جاوے گا۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہو سکتا۔ نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے۔ اور یہ فضل اور جذبہ دُعا ہی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ طاقت صرف دُعا ہی سے ملتی ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دُعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہی دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہئے ۔ اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دُعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲، ۳) دعا ایسی شے ہے کہ جن امراض کو اطباء اور ڈاکٹر لا علاج کہہ دیتے ہیں ان کا علاج بھی دُعا کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے۔ البدر جلد نمبر ۳ مؤرخه ۲۰ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲) اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔ یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔ اصل