تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 320
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ سورة البقرة دُعار بو بیت اور عبودیت کا ایک کامل رشتہ ہے اگر دُعاؤں کا اثر نہ ہوتا تو پھر اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخه ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۳) دُعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سر سبز کر سکتی ہے۔ اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہے اس میں بڑی تاثیریں ہیں جہاں تک قضاء قدر کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کوئی کیسا ہی معصیت میں غرق ہود عا اُس کو بچالے گی۔ اللہ تعالیٰ اُس کی دستگیری کرے گا اور وہ خود محسوس کرلے گا کہ میں اب اور ہوں ۔ دیکھو جو شخص مسموم ہے کیا وہ اپنا علاج آپ کر سکتا ہے اُس کا علاج تو دوسرا ہی کرلے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تطہیر کے لئے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مامور کی دُعا ئیں تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں دُعا کرنا اور کرانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے دُعا کے لئے جب درد سے دل بھر جاتا ہے اور سارے حجابوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت سمجھنا چاہیئے کہ دُعا قبول ہوگئی ۔ یہ اسم اعظم ہے اس کے سامنے کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ ایک خبیث کے لئے جب دُعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناً وہ صالح ہو جاوے اور بغیر دُعا کے وہ اپنی توبہ پر بھی قائم نہیں رہ قائم نہیں رہ سکتا ۔ بیمار اور محجوب اپنی دستگیری آپ نہیں کر سکتا۔ سنت اللہ کے موافق یہی ہوتا ہے کہ جب دُعا ئیں انتہا تک پہنچتی ہیں تو ایک شعلہ نور کا اُس کے دل پر گرتا ہے جو اُس کی ساری خباثتوں کو جلا کر تار یکی دور کر دیتا اور اندر ایک روشنی پیدا کرتا ہے۔ جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ رفروری ۱۹۰۳ء صفحه ۶،۵ ) الحکم جلد ساری عقدہ کشائیاں دُعا سے ہو جاتی ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۳) اسلام کی صداقت اور حقیقت دعاہی کے نکتہ کے نیچے خفی ہے کیونکہ اگر دُعا نہیں تو نماز بے فائدہ زکوۃ بے سود اور اسی طرح سب اعمال معاذ اللہ لغو ٹھہرتے ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ راپریل ۱۹۰۳ ء صفحه (۳) اللہ جل شانہ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دُعا۔ جب کوئی شخص بکاء وزاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اُس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اُس پر اس قدر کر دیتا ہے کہ بے جا کاموں اور ناکارہ حرکتوں سے وہ کوسوں بھاگ جاتا ہے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه (۱۴) حصول فضل کا اقرب طریق دُعا ہے اور دُعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رفت ہو اضطراب اور گدازش ہو۔ جو دعا عاجزی اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدائے تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو