تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 305

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة البقرة کے ذمہ ایک حق ٹھہرا دیا ہے جس کو بہر حال ادا کرنا چاہئے ۔ یعنی خدا نے سب حقوق پر وصیت کو مقدم رکھا ہے اور سب سے پہلے مرنے والے کے لئے یہی حکم دیا ہے کہ وہ وصیت لکھے۔ اور پھر فرمایا کہ جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمداً مرتکب ہوں ۔ تحقیق اللہ سنتا اور جانتا ہے یعنی ایسے مشورے اُس پر مخفی نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں کہ اُس کا علم ان باتوں کے جاننے سے قاصر ہے اور پھر فرمایا کہ جس شخص کو یہ خوف دامنگیر ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بھی اختیار کی ہے یعنی بغیر سوچنے سمجھنے کے کچھ غلطی کر بیٹھا ہے یا کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے یعنی عمداً کوئی ظلم کیا ہے اور اُس نے اس بات پر اطلاع پا کر جن کے لئے وصیت کی گئی ہے اس میں کچھ مناسب اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں تحقیق اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۱۱،۲۱۰) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں مگر جو تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو وہ اتنے روزے پھر رکھے۔ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی ۔ یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے نزول کے دن ہیں ۔ كُتِبَ سے فرضی روزے مراد ہیں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه ۵) الحکم جلدا انمبرے مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۷ صفحہ ۱۴) اس سوال کے جواب میں کہ جہاں چھ ماہ تک سورج نہیں چڑھتا روزہ کیوں کر رکھیں؟ فرمایا: اگر ہم نے لوگوں کی طاقتوں پر ان کی طاقتوں کو قیاس کرنا ہے تو انسانی قومی کی جڑھ جو حمل کا زمانہ ہے مطابق کر کے دکھلانا چاہیے۔ پس ہمارے حساب کی اگر پابندی لازم ہے تو ان بلاد میں صرف ڈیڑھ دن میں حمل ہونا چاہیئے اور اگر ان کے حساب کی ، تو دو سو چھیاسٹھ برس تک بچہ پیٹ میں رہنا چاہیئے اور یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ حمل صرف ڈیڑھ دن تک رہتا ہے لیکن دو سو چھیاسٹھ برس کی حالت میں یہ تو ماننا کچھ بعید از قیاس نہیں کہ وہ چھ ماہ تک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں کیونکہ اُن کے دن کا یہی مقدار ہے اور اس کے مطابق اُن کے قومی بھی ہیں ۔ - جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۷)