تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 303
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۳ سورة البقرة منجملہ انسان کے طبعی امور کے ایک صبر ہے جو اس کو ان مصیبتوں اور بیماریوں اور دکھوں پر کرنا پڑتا ہے جو اس پر ہمیشہ پڑتے رہتے ہیں اور انسان بہت سے سیاپے اور جزع فزع کے بعد صبر اختیار کرتا ہے۔ لیکن جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب کے رُو سے وہ صبر اخلاق میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ ایک حالت ہے جو تھک جانے کے بعد ضرورتاً ظاہر ہو جاتی ہے یعنی انسان کی طبعی حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہے کہ وہ مصیبت کے ظاہر ہونے کے وقت پہلے روتا، چیختا سر پیٹتا ہے۔ آخر بہت سا بخار نکال کر جوش تھم جاتا ہے اور انتہا تک پہنچ کر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ پس یہ دونوں حرکتیں طبعی حالتیں ہیں ان کو خلق سے کچھ تعلق نہیں۔ بلکہ اس کے متعلق خلق یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھ کر کوئی شکایت منہ پر نہ لاوے۔ اور یہ کہے کہ خدا کا تھا خدا نے لے لیا اور ہم اُس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۲،۳۶۱) دشمن وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيُوةٌ يَأْولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) جیسے بات بات میں سزا دینا اور انتقام لینا مذموم و خلاف اخلاق ہے۔ اسی طرح یہ بھی خیر خواہی حقیقی کے برخلاف ہے کہ ہمیشہ یہی اصول ٹھہرایا جاوے کہ جب کبھی کسی سے کوئی مجرمانہ حرکت صادر ہو تو جھٹ پٹ اس کے جرم کو معاف م کو معاف کیا جائے ۔ جو شخص ہمیشہ مجرم کو سزا کے بغیر چھوڑ دیتا ہے وہ ایسا ہی نظام عالم کا ہے جیسے وہ شخص کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں انتظام اور کینہ کشی پر مستعد رہتا ہے۔ نادان لوگ ہر محل میں عفو اور درگزر کرنا پسند کرتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ ہمیشہ درگزر کرنے سے نظام عالم میں ابتری پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ فعل خود مجرم کے حق میں بھی مضر ہے کیونکہ اس سے اس کی بدی کی عادت پکتی جاتی ہے اور شرارت کا ملکہ راسخ ہوتا جاتا ہے۔ ایک چور کو سزا کے بغیر چھوڑ دو پھر دیکھو کہ دوسری مرتبہ کیا رنگ دکھاتا ہے۔ اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے اپنی اس کتاب میں جو حکمت سے بھری ہوئی ہے فرمایا: وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حيوة يأولِي الْأَلْبَابِ - مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جميعا (المائدة : ۳۳) یعنی اے دانشمند و ! قاتل کے قتل کرنے اور موذی کی اسی قدر ایذا دینے میں تمہاری زندگی ہے۔ جس نے ایک انسان کو ناحق بے موجب قتل کر دیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔ (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۲۱ تا ۴۲۶ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) خدا تعالیٰ نے یہ قانون رکھا ہوا ہے کہ وہ شریروں اور سرکشوں کو جو اس کے حدود اور اوامر کی پروا نہیں