تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 301
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۱ سورة البقرة موجود ہیں مگر خدا جو وراء الوراء اسرار ظاہر کرتا ہے اور عمیق اور پوشیدہ باتوں کی خبر دیتا ہے اُس نے ان دونوں قوتوں کو مخلوق قرار دیا ہے، جو نیکی کا القاء کرتا ہے اُس کا نام فرشتہ اور روح القدس رکھا ہے اور جو بدی کا القاء کرتا ہے اُس کا نام شیطان اور ابلیس قرار دیا ہے مگر قدیم عقلمندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے کہ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور ا ردہ اور لغو نہیں ہے۔ بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں ۔ نیکی کا ں کا القاء اور بدی کا القاء ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں القاء انسان کی پیدائش کا جزو نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ باہم متضاد ہیں اور نیز انسان اُن پر اختیار نہیں رکھتا اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں القاء باہر سے آتے ہیں اور انسان کی تکمیل اُن پر موقوف ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے وجود یعنی فرشتہ اور شیطان کو ہندوؤں کی کتابیں بھی مانتی ہیں اور گھر بھی اس کے قائل ہیں بلکہ جس قدر خدا کی طرف سے دُنیا میں کتابیں آئی ہیں سب میں ان دونوں وجودوں کا اقرار ہے۔ پھر اعتراض کرنا محض جہالت اور تعصب ہے۔ چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۳، ۲۹۴) إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ شریعت کی بنا نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله سے یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع و شرا میں آجاتے ہیں اس کی حالت ہی سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ اُن کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیر بینیاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اُس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوڑھے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جھوٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح پر اگر تشد د ہو تو سب حرام ہو جاویں۔ اسلام نے مالا طاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنانرمی پر ہے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۰) جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے۔ ( بدر جلدی نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ ء صفحه (۶) لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ