تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 297

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۷ سورة البقرة اور صدقِ دل سے قربان ہونے کے لئے طیار ہو جانا جو اسلام کا مفہوم ہے یہ وہ عملی حالت ہے جو محبت کے سرچشمہ سے نکلتی ہے۔ اسلام کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے صرف قولی طور پر محبت کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی محبت اور جان فشانی کا طریق سکھایا ہے۔ دنیا میں اور کونسا دین ہے جس کے بانی نے اس کا نام اسلام رکھا ہے؟ اسلام نہایت پیار لفظ ہے اور صدق اور اخلاص اور محبت کے معنے کوٹ کوٹ کر اس میں بھرے ہوئے ہیں ۔ پس مبارک وہ مذہب جس کا نام اسلام ہے۔ ایسا ہی خدا کی محبت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ یعنی ایماندار وہ ہیں جو سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۷) خدا تو محبت اور اطاعت کی راہ بتاتا ہے چنانچہ خود قرآن شریف میں اس نے فرمایا ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ اور فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمُ (البقرة : ۲۰۱) اور پھر کیا دنیا میں کبھی یہ بھی ہوا ہے کہ بیٹا باپ کی محبت میں فنا ہو کر خود باپ بن جاوے باپ کی محبت میں فنا تو ہوسکتا ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ باپ ہی ہو جاوے یہ یاد رکھنے کے قابل بات ہے کہ فناء نظری ایک ایسی شے ہے جو محبت سے ضرور پیدا ہوتی ہے لیکن ایسی فنا جو در حقیقت بہانہ فنا کا ہو اور ایک جدید وجود کے پیدا کرنے کا باعث بنے کہ میں ہی ہوں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۳) عبادت کے دو حصے تھے۔ ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈرنے کا حق ہے خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی روح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے جو محبت کرنے کا حق ہے اسی لئے فرمایا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ اور ر دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جاوے۔ یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لئے یوں تو ہر قسم کی ماعبادت عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اُس کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں ۔ خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اس سے محبت کیوں کر کر سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوے گی اور جس قدر