تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 294
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ سورة البقرة ہر یک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اسی صورت میں بجالانا متصور ہے کہ جب ان کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے۔ نہایت سخت جاہل وہ شخص ہو گا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ پیار اور محبت اسی کا نام ہے کہ اس شخص کے قول اور فعل اور عادت اور خلق اور مذہب کو رضا کے رنگ میں دیکھیں اور اس پر خوش ہوں اور اس کا اثر اپنے دل پر ڈال لیں اور ایسا ہونا مومن سے کافر کی نسبت ہر گز ممکن نہیں ۔ ہاں مومن کافر پر شفقت کرے گا اور تمام دقائق ہمدردی بجالائے گا اور اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب، ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کرو بھوکوں کو کھلا ؤ غلاموں کو آزاد کرو قرض داروں کے قرض دو اور زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔ اور فرماتا ہے : ان اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ اِيْتَانِى ذِي الْقُرْبَى (النحل : ٩١) یعنی خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرو۔ جیسے بچہ سے اس کی والدہ یا کوئی اور شخص محض قرابت کے جوش سے کسی کی ہمدردی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے : لَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة : ٩) یعنی نصاری وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی تو اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے کے لئے لڑائیاں نہیں کیں۔ اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگر چہ عیسائی ہوں یا یہودی ہوں بے شک ان پر احسان کروان سے ہمدردی کرو انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے : إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ اَخْرَجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ وَ ظَهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ وَ مَنْ يَتَوَلَّهُمُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الممتحنة :١٠) یعنی خدا نے جو تمہیں ہمدردی اور دوستی سے منع کیا ہے تو صرف ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے دینی لڑائیاں تم سے کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نکالا اور بس نہ کیا۔ جب تک باہم مل کر تمہیں نکال نہ دیا۔ سوان کی دوستی حرام ہے کیونکہ یہ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اس جگہ یا درکھنے کے لائق ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تَوَلَّى تَوَلَّیٰ کی تا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ توٹی میں ایک تکلف ہے جو مغائرت پر دلالت کرتا ہے مگر محبت میں ایک ذرہ مغائرت باقی نہیں رہتی ۔ منہ ) عربی زبان میں دوستی کو کہتے ہیں جس کا دوسرا نام مودت ہے اور اصل حقیقت دوستی اور مودت کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے۔ سومومن