تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 281

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۱ سورة البقرة ہے اور یہ زہر قاتل ہے پس تو بہ استغفار کرو۔ اور نمازوں میں دُعائیں کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہو۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۴۴، ۴۵ مورخه ۲۴ نومبر و یکم دسمبر ۱۹۰۴ صفحه (۳) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوں سے لی گئی ہیں جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوں کی رسمیں اختیار کر لیں۔ کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہیں۔ یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں ، اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان سے ہے۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۶ ء صفحه (۱۲) انسان کے واسطے ترقی کرنے کے دو ہی طریق ہیں اوّل تو انسان تشریعی احکام یعنی نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج وغیرہ تکالیف شریعہ کی پابندی سے جو کہ خدا کے حکم کے موجب خود بجالا کر کرتا ہے۔ مگر یہ امور چونکہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں اس لئے کبھی ان میں سستی اور تساہل بھی کر بیٹھتا ہے۔ اور کبھی ان میں کوئی آسانی اور آرام کی صورت ہی پیدا کر لیتا ہے لہذا دوسرا وہ طریق ہے۔ جو براہ راست خدا کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے۔ اور یہی انسان کی اصلی ترقی کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ تکالیف شرعیہ میں انسان کوئی نہ کوئی راہ بچاؤ یا آرام و آسائش کی نکال ہی لیتا ہے دیکھو کسی کے ہاتھ میں تازیا نہ دے کر اگر اسے کہا جاوے کہ اپنے بدن پر ماروتو قاعدہ کی بات ہے کہ آخر اپنے بدن کی محبت دل میں آ ہی جاتی ہے کون ہے جو اپنے آپ کو دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے؟ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل کے واسطے ایک دوسری راہ رکھ دی۔ اور فرمایا: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم آزماتے رہیں گے۔ تم کو کبھی کسی قدر خوف بھیج کر کبھی فاقہ سے کبھی مال جان اور پھلوں پر نقصان وارد کرنے سے مگر ان مصائب شدائد اور فقر وفاقہ پر صبر کر کے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ کہنے والے کو بشارت دے دو کہ ان کے واسطے بڑے بڑے اجر خدا کی رحمتیں اور اس کے خاص انعامات مقرر ہیں ۔ دیکھو ایک کسان کسی محنت اور جانفشانی سے قلبہ رانی کر کے زمین کو درست کرتا پھر تخم ریزی کرتا ، آبپاشی