تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 276

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۶ سورة البقرة ٹوٹ جاتا ہے خدا کی محبت یہی ہے کہ ابتلا میں ڈالتا ہے اور اس سے اپنے بندے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے مثلاً کسری اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم نہ دیتا تو یہ معجزہ کہ وہ اُسی رات مارا گیا کیسے ظاہر ہوتا اور اگر مکہ والے لوگ آپ کو نہ نکالتے تو فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (الفتح:۲) کی آواز کیسے سنائی دیتی۔ ہر ایک معجزہ ابتلا سے وابستہ ہے، غفلت اور عیاشی کی زندگی کو خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے کامیابی پر کامیابی ہو تو تضرع اور انتہال کا رشتہ تو بالکل رہتا ہی نہیں ہے حالانکہ خدا تعالیٰ اسی کو پسند کرتا ہے اس لئے ضرور ہے کہ دردناک حالتیں پیدا ہوں ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۵) دنیا میں دو قسم کے دکھ ہوتے ہیں بعض دکھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان میں تسلی دی جاتی ہے اور صبر کی توفیق ملتی ہے۔ فرشتے سکینت کے ساتھ اترتے ہیں اس قسم کے دکھ نبیوں اور راست بازوں کو بھی ملتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ابتلا آتے ہیں جیسا کہ اُس نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ میں فرمایا ہے ان دکھوں کا انجام راحت ہوتا ہے اور درمیان میں بھی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ خدا کی طرف سے صبر اور سکینت ان کو دی جاتی ہے۔ مگر دوسری قسم دکھ کی وہ ہے جس میں یہی نہیں کہ دکھ ہوتا ہے بلکہ اس میں صبر و ثبات کھویا جاتا ہے اس میں نہ انسان مرتا ہے نہ جیتا ہے اور سخت مصیبت اور بلا میں ہوتا ہے یہ شامت اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے مَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشَّورى: ۳۱) اور اس قسم کے دکھوں سے بچنے کا یہی طریق اور علاج ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۳) یا درکھو ابتلا بھی دو قسم کے ہوتے ہیں؛ ایک ابتلا شریعت کے اوامر و نواہی کا ہوتا ہے دوسرا ابتلا قضاء وقدر کا ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ - پس اصل مرد میدان اور کامل وہ ہوتا ہے جو ان دونوں قسم کی ابتلاؤں میں پورا اُترے۔ بعض اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اوامر و نواہی کی رعایت کرتے ہیں لیکن جب کوئی ابتلا مصیبت ، قضاء و قدر کا پیش آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرتے ہیں ۔۔۔ قوی وہی ہے جو اعتقاد اعتقاد صحیح رکھتا ہو۔ اعمال صالحہ کرنے والا ہو اور مصائب و شدائد میں پورا اُترنے والا ہو اور یہی جوانمردی ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸-۱۹ مورخه ۸ مورخه ۱۶ رمتی ۱۹۰۴ ء صفحه (۱۰) یا د رکھو کہ خدا کے فضل کے حاصل کرنے کے دو راہ ہیں ؛ ایک تو زہد نفس کشی اور مجاہدات کا ہے اور دوسرا قضا وقدر کا۔ لیکن مجاہدات سے اس راہ کا طے کرنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے