تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 266
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة البقرة کبھی تم کو مال سے یا جان سے یا اولا د یا کھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کریں گے مگر جو ایسے وقتوں میں صبر کرتے اور شاکر رہتے ہیں تو اُن لوگوں کو بشارت دو کہ اُن کے واسطے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہ اور ان پر خدا کی برکتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ۔ یعنی ہم اور ہمارے متعلق کل اشیا یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کار ان کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا۔ اور وہ لوگ مقام رضا میں بودو باش رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خدا نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں ۔ مُهْتَدُونَ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے منشا کو پالیا اور اُس کے مطابق عملدرآمد کرنے لگ گئے ایسے ہی لوگ تو ولی ہوتے ہیں ۔ انہیں کو تو لوگ قطب کہتے ہیں ، یہی تو غوث کہلاتے ہیں ۔ پس کوشش کرو کہ تم بھی ان مدارج عالیہ کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکو۔ خدا تعالیٰ نے تو انسان سے نہایت تنزل کے رنگ میں دوستانہ برتاؤ کیا ہے۔ دوستانہ تعلق کیا ہوتا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات کو مان لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: (۱) اور إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة : ۱۸۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی بات کو مان لیتا ہے اور اس کی دُعا کو قبول فرماتا ہے اور دوسری جگہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي (البقرة : ١٨٤) سے اور وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیاء لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دُعا قبول نہیں ہوئی۔ اصل میں وہ نادان اس قانون الہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں ۔جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑا ہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگاہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دو نمونے پیش کئے ہیں انہی کو مان لینا ایمان ہے ۔ تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اُس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔ مومن کے لئے مصائب ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ لمبے ہوتے ہیں بلکہ اُس کے واسطے رحمت، محبت اور لذت کا چشمہ جاری کیا جاتا ہے۔ عاشق لوگ عشق کے غلبہ کے وقتوں اور اُس کے دردوں میں ہی لذت پاتے ہیں۔ یہ باتیں گو ایک خشک محض انسان کے لئے سمجھانی مشکل ہیں مگر جنہوں نے اس راہ میں قدم مارا