تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 261
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۱ سورة البقرة الثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَاتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ انسان کو خدا کی طرف سے تسلی پانے کی بڑی بڑی حاجتیں پڑتی ہیں بسا اوقات وہ ایسی سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ اگر خدا کا کلام آیا نہ ہوتا اور اس کو اپنی اس بشارت سے مطلع نہ کرتا۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ۔ تو وہ بے حوصلہ ہو کر شاید خدا کے وجود سے ہی انکار کرتا اور یا نا امیدی کی حالت میں خدا سے بگلی رابطہ توڑ دیتا لا اور یا غموں کے صدمہ سے ہلاک ہو جاتا۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۳۴۱ حاشیہ نمبر ۱۱) خدا تعالیٰ کی انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کے لئے بڑے عظیم الشان دو طریقے ہیں۔ (۱) اول یہ کہ کوئی مصیبت اور غم واندوہ نازل کر کے صبر کرنے والوں پر بخشش اور رحمت کے دروازے کھولے جیسا کہ اُس نے خود فرمایا ہے : بَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یعنی ہمارا یہی قانون قدرت ہے کہ ہم مومنوں پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈالا کرتے ہیں اور صبر کرنے والوں پر ہماری رحمت نازل ہوتی ہے اور کامیابی کی راہیں انہیں پر کھولی جاتی ہیں جو صبر کرتے ہیں۔ (۲) دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسال مرسلین و مبین وائمہ و اولیاء وخلفاء ہے۔ تا اُن کی اقتداء و ہدایت سے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اُن کے نمونہ پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جا ئیں سوخدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اِس عاجز کی اولاد کے ذریعہ سے یہ دونوں شق ظہور میں آ جائیں ۔ پس اول اُس نے نے قسم اول کے انزال رحمت کے لئے بشیر کو بھیجا تا کشِرِ الصَّبِرِینَ کا سامان مومنوں کے لئے طیار کر کے اپنی بشیریت کا مفہوم پورا کرے سو وہ ہزاروں مومنوں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں محض للہ شریک ہوئے بطور فرط کے ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کا شفیع ٹھہر گیا اور اندر ہی اندر بہت سی برکتیں ان کو پہنچا گیا ۔۔۔۔۔ دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے اس کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا۔ ( سبز اشتہار، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۶۱ تا ۴۶۳ حاشیه )