تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 259

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۹ سورة البقرة نکاح میں آئے گی ۔۔۔۔۔ اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی ۔ اُس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اُسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُعْتَرِينَ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سو اُس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدائے تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر ۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ در حقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہو گیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آ جاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدائے تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لئے اُن کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں نو امید کر دیا تونو امید مت ہو۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۰۶،۳۰۵) وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مجرد سبقت کا جوش اپنے اندر برا نہیں ہے۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ یعنی خیر اور بھلائی کی ہر ایک قسم میں سبقت کرو اور زور مار کر سب سے آگے چلو سو جو شخص نیک وسائل سے خیر میں سبقت کرنا چاہتا ہے وہ در حقیقت حسد کے مفہوم کو پاک صورت میں اپنے اندر رکھتا ہے۔ مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۵۶۸) كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ ايْتِنَا وَ يُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ) یعنی رسول تم کو کتاب اور حکمت اور وہ تمام حقائق اور معارف سکھاتا ہے۔جن کا خود بخود معلوم کر لینا تمہارے لئے ممکن نہ تھا۔ ( براہین احمدیہ چہار خصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۰۰،۴۹۹) فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ یعنی تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۴)