تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 257

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ سورة البقرة اب ان آیات کا سیاق سباق دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اگر چہ ان آیات میں حضرت موسی مخاطب کئے گئے تھے مگر دراصل حضرت موسی کو ان احکام کا نشانہ نہیں بنایا گیا حضرت موسی نہ کنعان میں گئے اور نہ بت پرستی جیسا برا کام حضرت موسی جیسے مرد خدا بت شکن سے ہو سکتا تھا جس سے ان کو منع کیا جاتا کیونکہ موسیٰ وہ مقرب اللہ ہے جس کی شان میں اسی باب میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میری نظر میں منظور ہے اور میں تجھ کو بنام پہچانتا ہوں دیکھو خروج باب ۳۳ آیت (۱۷)۔ سویا درکھنا چاہئے کہ یہی طرز قرآن شریف کی ہے توریت اور قرآن شریف میں اکثر احکام اسی شکل سے واقعہ ہیں کہ گویا مخاطب اُن کے حضرت موسی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر دراصل وہ خطاب قوم اور اُمت کے لوگوں کی طرف ہوتا ہے لیکن جس کو ان کتابوں کی طرز تحریر معلوم نہیں وہ اپنی بیخبری سے یہی خیال کر لیتا ہے کہ گویا وہ خطاب و عتاب نبی منزل علیہ کو ہو رہا ہے مگر غور اور قرائن پر نظر ڈالنے سے اُس پر کھل جاتا ہے کہ یہ سراسر غلطی ہے۔ پھر یہ اعتراض ان آیات پر نظر ڈالنے سے بھی بکلی مستاصل ہوتا ہے جن میں اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین کامل کی تعریف کی ہے جیسا کہ وہ ایک ( جگہ ) فرماتا ہے: نقل إِنِّي اني على بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّي (الانعام :(۵۸) یعنی کہہ کہ مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے رب کی طرف سے ملی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے : قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي اَدْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ - ( یوسف : ۱۰۹) یعنی کہہ کہ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کاملہ کے ساتھ بلاتا ہوں اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے : وَ انْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۱۴) یعنی خدا نے تجھ پر کتاب اُتاری اور حکمت یعنی دلائل حقیت کتاب و حقیت رسالت تجھ پر ظاہر کئے اور تجھے وہ علوم سکھائے جنہیں تو خود بخود جان نہیں سکتا تھا اور تجھ پر اس کا ایک عظیم فضل ہے پھر سورہ نجم میں فرماتا ہے: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔۔۔۔۔ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الكُبرى (النجم : ۱۲ و ۱۸ ،۱۹) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے جو اپنی صداقت کے آسمانی نشان دیکھے تو اس کی کچھ تکذیب نہ کی یعنی شک نہیں کیا اور آنکھ چپ وراست کی طرف نہیں پھیری اور نہ حد سے آگے بڑھی یعنی حق پر ٹھہر گئی اور اُس نے اپنے خدا کے وہ نشان دیکھے جو نہایت بزرگ تھے۔ اب اے ناظرین! ذرا انصافاً دیکھو ، اے حق پسند و! ذرا منصفانہ نگہ سے غور کرو کہ خدائے تعالیٰ کیسے