تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 247
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة البقرة کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں ۔ - الحکم جلد ۴ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۴) وَ وَى بِهَا إِبْرَاهِمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يُبَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ط دیکھو دنیا چند روزہ ہے اور آگے پیچھے سب مرنے والے ہیں ۔ قبریں منہ کھولے ہوئے آوازیں مار رہی ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی نوبت پر جا داخل ہوتا ہے عمر ایسی بے اعتبار اور زندگی ایسی نا پائدار ہے کہ چھ ماہ اور تین ماہ تک زندہ رہنے کی امید کیسی اتنی بھی امید اور یقین نہیں کہ ایک قدم کے بعد دوسرے قدم اُٹھانے تک زندہ رہیں گے یا نہیں پھر جب یہ حال ہے کہ موت کی گھڑی کا علم نہیں اور یہ پکی بات ہے کہ وہ یقینی ہے ٹلنے والی نہیں تو دانشمند انسان کا فرض ہے کہ ہر وقت اس کے لئے تیار رہے اسی لئے قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے: لا تموتن إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ہر وقت جب تک انسان خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان ہر دو حقوق کی پوری تکمیل نہ کرے بات نہیں بنتی۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ حقوق ( عباد ) بھی دو قسم کے ہیں ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق عباد اور حقوق عباد بھی دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ ہے یا بیٹا مگر ان سب میں ایک دینی اخوت ہے اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اُسی کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اس کی عبادت کی جاوے اور اُس ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے کوئی فرق نہ آوے۔ اس لئے ان حقوق میں دوزخ اور بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہئے ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دُعانہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۵) تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا روروور يعملون ۔ یعنی اس وقت سے جتنے پیغمبر پہلے ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا۔ اُن کے اعمال اُن کے لئے