تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 240
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ۔ سورة البقرة سے تعبیر کرتے ہیں اور جب محبت الہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اُن کے اندر سکونت کمونت رکھتی ہے اور وہ اُس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی ان ان سے جدا ہوتی ہے۔ وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے اور ان کی نظر کے ساتھ ہر ایک چیز پر پڑتی ہے۔ اور اُن کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے اسی روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے یہ روح القدس اُس کا ظل ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور لوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہوجاتا ہے اور ایک طرفتہ العین کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جوشخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ ان سے جدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے پر ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی توہین کرتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجاز اروح القدس ہی رکھا جاتا ہے اُن سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضاء میں داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقا اور لقا کا ا کا پاکر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ اُن کی نہایت اصفی اور اصلی محبت پر خدا تعالیٰ کی کامل محبت اپنی برکات کے ساتھ نازل ہو۔ اور جب وہ روح القدس نازل ہوتا ہے تو اس انسان کے وجود سے ایسا تعلق پکڑ جاتا ہے کہ جیسے جان کا تعلق جسم سے ہوتا ہے وہ قوت بینائی بن کر آنکھوں میں کام دیتا ہے اور قوت شنوائی کا جامہ پہن کر کانوں کو روحانی حس بخشا ہے وہ زبان کی گویائی اور دل کے تقویٰ اور دماغ کی ہشیاری بن جاتا ہے اور ہاتھوں میں بھی سرایت کرتا ہے اور پیروں میں بھی اپنا اثر پہنچاتا ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۷ تا ۷۳ ) نجات یافتہ وہ شخص ہے جو اپنے وجود کو خدا کے لئے اور خدا کی راہ میں قربانی کی طرح رکھ دے اور نہ صرف نیت سے بلکہ نیک کاموں سے اپنے صدق کو دکھلاوے۔ جو شخص ایسا کرے اس کا بدلہ خدا کے نزد یک مقرر ہو چکا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (اسلامی اصول کی فلسفی، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۳۲) ۱۰ ہماری استقامت یہ ہے کہ جیسا وہ فرماتا ہے کہ : بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ یعنی یہ کہ قربانی کی طرح میرے آگے گردن رکھ دو۔ ایسا ہی ہم اس وقت درجہء استقامت حاصل کریں گے کہ جب