تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 233

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۳ سورة البقرة خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اس کی عزت و جلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزتی اور ذلت قبول کرنے کے لئے مستعد ہو اور اس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں موتوں کے قبول کرنے کے لئے طیار ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اس کے احکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلاوے کہ گویا وہ کھا جانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا بھسم کر دینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بھاگنا چاہے۔ غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیات چھوڑ دے اور اس کے پیوند کے لئے جا نگاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کے لئے سب نفسانی تعلقات توڑ دے۔ اور خلق اللہ کی خدمت اس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طرق کی راہ سے قسام ازل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے ان تمام امور میں محض اللہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہو سکتی ہے ان کو نفع پہنچاوے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خدا داد قوت سے مدد دے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگا دے۔ مگر یہ المی وقف محض اس صورت میں اسم با مسمی ہوگی کہ جب تمام اعضاء الہی طاعت کے رنگ سے ایسے رنگ پذیر ہو جائیں کہ گویا وہ ایک الہی آلہ ہیں جن کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً افعال الہیہ ظہور پذیر ہوتے ہیں یا ایک مصفا آئینہ ہیں جس میں تمام مرضیات الہیہ بصفاء تام عکسی طور پر ظہور پکڑتی رہتی ہیں اور جب اس درجہ کاملہ پرلی طاعات و خدمات پہنچ جائیں تو اس صبغۃ اللہ کی برکت سے اس وصف کے انسان کے قومی اور جوارح کی نسبت وحدت شہودی کے طور پر یہ کہنا صحیح ہوتا ہے کہ مثلاً یہ آنکھیں خدا تعالیٰ کی آنکھیں اور یہ زبان خدا تعالیٰ کی زبان اور یہ ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ اور یہ کان خدا تعالیٰ کے کان اور یہ پاؤں خدا تعالیٰ کے پاؤں ہیں۔ کیونکہ وہ تمام اعضاء اور قوتیں لکھی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پر ہو کر اور اس کی خواہشوں کی تصویر بن کر اس لائق ہو جاتی ہیں کہ ان کو اسی کا روپ کہا جاوے وجہ یہ کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء پورے طور پر اس کی مرضی اور ارادہ کے تابع ہوتے ہیں ایسا ہی کامل انسان اس درجہ پر پہنچ کر خدا تعالیٰ کی مرضیات وارادت سے موافقت تامہ پیدا کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت اور مالکیت اور معبودیت اور اس کی ہر یک مرضی اور خواہش کی بات ایسی ہی اس کو پیاری معلوم ہوتی ہے کہ جیسی خود خدا تعالیٰ کو ۔ سو یہ عظیم الشان الہی طاعت و خدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حنفیت تامہ سے بھری